میڈیا اس بات کا کبھی بھی کھلے عام اعتراف نہیں کر سکتا کہ دنیا کی سب سے بڑی پر امن جمہوری لڑائی میں کسانوں کو زبردست جیت حاصل ہوئی ہے۔ یہ فتح اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ اس پورے احتجاجی مظاہرے کو ایسے دور میں منظم کیا گیا، جب کووڈ وبائی مرض اپنے عروج پر تھا۔
یہ جیت ایسی ہے جو ایک وراثت کو آگے لے کر جانے والی ہے۔ آزادی کی اس لڑائی میں آدیواسیوں اور دلتوں سمیت، ملک کی ہر برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اہم رول ادا کیا۔ اور ہماری آزادی کے ۷۵ویں سال میں، دہلی کی سرحدوں پر موجود کسانوں نے اُس عظیم جدوجہد کی روح کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال ۲۹ مئی سے شروع ہونے جا رہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں زرعی قوانین کو واپس لیتے ہوئے انہیں منسوخ کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے اس لیے کیا ہے کیوں کہ وہ ’بہترین کوششوں کے باوجود کسانوں کے ایک طبقہ کو‘ اس کے لیے قائل کرنے میں ناکام رہے۔ یاد رہے، صرف ایک طبقہ کو، وہ یہ سمجھانے میں ناکام رہے کہ بد نام زمانہ تین زرعی قوانین واقعی میں ان کے حق میں بہتر تھے۔ لیکن اُن کی زبان سے اُن ۶۰۰ سے زیادوں کسانوں کے لیے ایک لفظ بھی نہیں نکلا، جنہوں نے اس تاریخی لڑائی کے دوران اپنی جان گنوا دی۔ وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی ناکامی صرف اتنی سی ہے کہ وہ ’کسانوں کے اُس طبقہ‘ کو روشنی دیکھنے کے لیے قائل نہیں کر سکے۔ انہیں خود ان قوانین میں موجود کوئی خامی نظر نہیں آتی اور نہ ہی وبائی مرض کے درمیان میں ہی ان قوانین کو زبردستی تھوپ دیے جانے میں اپنی سرکار کی کوئی ناکامی دکھائی دیتی ہے۔
خالصتانی، ملک دشمن، کسانوں کے بھیس میں جعلی کارکن جیسے القاب سے نوازا گیا ’کسانوں کا یہ وہی طبقہ‘ ہے جس نے جناب مودی کے ذریعے دکھائے گئے سبز باغ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ قائل ہونے سے منع کر دیا؟ لیکن قائل کرنے کا طریقہ کیا تھا؟ انہیں اپنی شکایتیں درج کرانے کے لیے دارالحکومت میں داخل ہونے سے منع کر دینا؟ خندقیں کھود کر اور کنٹیلے تار لگا کر ان کے راستوں کو روک دینا؟ ان کے اوپر پانی کی بوچھار کرنا؟ ان کے کیمپوں کو چھوٹے قید خانوں میں تبدیل کر دینا؟ اسیر میڈیا سے کسانوں کو روزانہ بدنام کرنا؟ انہیں گاڑیوں سے روندنا – جس کا مالک مبینہ طور پر ایک مرکزی وزیر یا اس کا بیٹا ہو؟ کیا لوگوں کو قائل کرنے کے لیے حکومت کا یہی طریقہ ہوتا ہے؟ اگر یہ تمام چیزیں اس کی طرف سے ’بہترین کوششیں‘ تھیں، تو ہم اس کی بدترین کوششوں کو کبھی دیکھنا نہیں چاہیں گے۔











