جمعرات (۲۹ ستمبر، ۲۰۱۱)، رات کے ۸ بج کر ۲۷ منٹ ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں کسانوں کی خودکشی والے علاقہ کا وارا کَوتھا گاؤں۔ اپرنا ملیکار کے گھر میں لوگوں کا ہجوم لگا ہے۔
سات سالہ روہنی کم روشنی والے کمرے میں بڑی بے صبری سے چہل قدمی کر رہی ہے: تین منٹ کا وقت اتنا لمبا کیسے ہو سکتا ہے؟ ساڑھے آٹھ بجے، ان کی ماں اپرنا کون بنے گا کروڑ پتی (کے بی سی) پر ہوں گی، اور تقریباً آدھا گاؤں مٹی اور اینٹ سے بنے تین کمروں کے اس گھر میں جمع ہو گیا ہے، جہاں پر ٹی وی ہے۔ ان سبھی کو نتیجہ معلوم ہے، ظاہر ہے: ۲۷ سالہ بیوہ کسان نے، جو دو بچوں کی ماں اور کپاس کی کھیتی کرتی ہیں، ان سبھی کا سر فخر سے اونچا کیا ہے۔ اسی لیے یوتمال ضلع کا یہ چھوٹا سا گاؤں اپرنا کے اس خوشی کے لمحہ میں شامل ہونا چاہتا ہے، جو کے بی سی کے اسپیشل ایپی سوڈ، دوسرا موقع، میں امیتابھ بچن کے سامنے بیٹھی ہوں گی۔
روہنی اپنے دادا، ارون تاٹھے کے اوپر چیختی ہے جو کہ چینل بدل رہے ہیں۔ ’’سونی پر جائیے!‘‘ وہ مسکراتے ہیں اور اس کی خواہش پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی کے چہرے پر مکمل سکون دکھائی دے رہا ہے، تو وہ ۴ سال کی چھوٹی بہن سمردھی، جو اُس وقت سو رہی تھی، اور ان کے والد سنجے ہیں، جو دیوار پر ٹنگی فریم والی تصویر سے نیچے جھانک رہے ہیں۔
اپرنا خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ۱۰ ستمبر کی ریکارڈنگ کے بعد، بِگ بی نے ذاتی تحفہ کے طور پر انہیں ایک چیک بھیجا تھا۔ ’’انہوں نے مجھے ۵۰ ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا،‘‘ اپرنا کہتی ہیں۔ ’’لیکن مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ وہ چیک ۱ لاکھ روپے کا تھا۔ میں بہت خوش ہوئی۔‘‘
اداکار نے اپنے بلاگ میں لکھا: ’’ اس شاندار پروگرام میں ’غمزدہ دلوں‘ کے درمیان اپنا وقت گزارنے کے بعد بہت کچھ نہیں بچے گا جسے بیان کیا جا سکے۔‘‘
کے بی سی نے اپرنا کو اس خطہ کی ۱۰ بیوہ کسانوں میں سے چُنا تھا۔ ان ۱۰ ناموں کی سفارش کسانوں کی ایک تحریک، وِدربھ جن آندولن سمیتی کے کشور تیواری نے کی تھی۔
’’ان کی ٹیم میرا انٹرویو کرنے کے لیے یہاں آئی تھی؛ مجھے بھرنے کے لیے ایک سوالنامہ دیا گیا تھا،‘‘ اپرنا یاد کرتی ہیں۔ ماں لیلا بائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو اس کی شادی کے آٹھ سالوں کے درمیان کبھی بھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔
شادی کا مطلب تھا کام، قرض، لڑائی جھگڑا۔ اس کے بعد، اگست ۲۰۰۸ میں، سنجے نے قریب کے پٹن بوری میں حشرہ کش دوا پی لی۔ تب روہنی چار سال کی تھی، جب کہ اس کی بہن صرف نو مہینے کی تھی۔ اپرنا کہتی ہیں کہ وہ ابھی بھی منگل سوتر پہنتی ہیں ’’معاشرہ سے خود کی حفاظت کرنے کے لیے‘‘۔
لیکن اب یہ خوشی کا وقت ہے۔ ساڑھے آٹھ بج چکے ہیں۔ امیتابھ بچن اپنی رعب دار آواز میں سامعین کو بتاتے ہیں کہ کے بی سی اپرنا کو اپنی زندگی جینے کا دوسرا موقع دینا چاہتا ہے۔
حالانکہ، اس سے پہلے، بگ بی کو پچھلی رات کے ایک امیدوار، بہار کے سنجے کمار کو دیکھنا ہوگا، جو ’’بہت اچھا‘‘ کھیل رہے ہیں۔ اپرنا کے گھر میں لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ٹی وی روم اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔
آٹھ بج کر ۴۵ منٹ۔ تباہی! بجلی گل ہو چکی ہے۔ ’’لوڈ شیڈنگ!‘‘ ایک بچہ چلّاتا ہے۔ ’’چُپ ہو جاؤ۔ تھوڑی دیر میں آ جائے گی،‘‘ کوئی بزرگ تنبیہ کرتا ہے۔ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔ آٹھ بج کر ۵۰ منٹ پر بجلی واپس آ جاتی ہے۔ لیکن تب ٹی وی پر اشتہار دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا، انتظار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔




