وہ باورچی خانہ میں تازہ سبزیوں اور پھلوں کے تھیلے کے ساتھ داخل ہوتی ہیں، اور جب باہر نکلتی ہیں تو کچرے کے نام پر کہیں کچھ نہیں نظر آتا ہے۔ وجے لکشمی سمر اپنے کھانا پکانے کے عمل میں پورا کا پورا پھل یا سبزی استعمال کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ چھلکوں کو بھی پتیلی (برتن) میں ڈال دیتی ہیں۔ یہ پڑھ کر آپ کو حیرت ہو رہی ہے؟
راجستھان کے اُدے پور میں چھلکوں، بیجوں، گٹھلیوں – یہاں تک کہ تربوز کے موٹے چھلکوں سے سبزی سے لے کر تلے ہوئے ہلکے پھلکے ناشتے بنانے تک کی روایت ہے۔ ان چھلکوں اور گٹھلیوں کی ادویاتی خوبیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، آم کی گٹھلیوں کے بیج پیٹ میں مروڑ اور حیض کے دنوں میں ہونے والے درد کے علاج میں کام آتی ہیں۔
ادے پور کے بوڑھے بزرگ ہمیں بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں سبزیوں کا کوئی حصہ برباد نہیں ہوتا تھا۔ باورچی خانہ میں جو چیزیں انسانی استعمال کے کام نہیں آتی تھیں وہ مویشیوں کو کھلانے یا کھیتوں میں کھاد بنانے کے کام میں لائی جاتی تھیں۔ حالانکہ، اس پورے عمل کا کوئی روایتی نام نہیں تھا، لیکن پرانی نسل کے لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کے پاس کھانے لائق کسی بھی سامان کو برباد کرنے کا کوئی متبادل نہیں تھا۔

















