رنگین کاغذ، شادی کے کارڈ اور پوسٹر محمد غوث الدین عظیم کی دکان میں بندھی رسّی پر پِن سے ٹنگے ہیں۔ وہ خشک بید سے بنائے گئے قلم کا استعمال کرتے ہوئے، ایک سفید کاغذ پر سب سے اوپر اردو میں اللہ لکھ رہے ہیں۔ وہ سب سے پہلے یہی کرتے ہیں، پھر کوئی اور کام۔ ’’میں گزشتہ ۲۸ برسوں سے ایک خطّاط ہوں۔ میں نے سعودی عرب میں کام کرتے ہوئے اس فن میں مہارت حاصل کی۔ ۱۹۹۶ میں ہندوستان لوٹنے کے بعد، میں نے یہ دکان کھولی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
۴۴ سال کے عظیم، حیدرآباد کے مرکز میں رہتے ہیں اور ان کی دکان جمال بازار میں ہے، جو چار مینار کے قریب چھتہ بازار میں ایک تین منزلہ عمارت ہے۔ یہ شہر کے سب سے پرانے بازاروں میں سے ایک ہے، چھپائی کی دکانوں کا ایک مرکز جو صدیوں پرانی مخصوص خطّاطی (اردو اور عربی خطاطی) کے لیے جانا جاتا ہے۔
خطاطی کا چلن دکن میں قطب شاہی دور (۱۵۱۸-۱۶۸۷) سے ہے۔ تاریخی اعتبار سے، ان خطاطوں (جنہیں کاتب بھی کہا جاتا ہے) نے عربی اور اردو میں قرآن لکھے ہیں۔ ان میں سے ہاتھ سے تحریر کردہ کچھ قرآن حیدرآباد اور اس کے ارد گرد کے عجائب خانوں میں موجود ہیں۔ یہ خطاطی قطب شاہی دور میں شہر میں بنائی گئی یادگاری عمارتوں پر دیکھی جا سکتی ہے۔ لوگوں کو اب بنیادی طور سے خاص مواقع پر اردو خطاطی یا خوش خط کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ استاد خطّاط کی تلاش میں چھتّہ بازار آتے ہیں۔ اردو کے اسکول اور مدرسے بھی کبھی کبھی اپنا لوگو (نشان) بنوانے کے لیے یہاں آتے ہیں۔
اپنے آس پاس مختلف سرگرمیوں – کام کرنے والے کاغذوں کو ادھر ادھر پٹخ رہے ہیں، صارفین چیخ رہے ہیں، پرنٹنگ پریس شور کر رہا ہے – ان سب کے باوجود عظیم خاموشی سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ ’’میں خود کو اس فن کا مشق کرنے والا مانتا ہوں، حالانکہ لوگ مجھے استاد خطاط کہتے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’خطاطی ایک طرح سے گرامر (قواعد) ہے۔ ہر فونٹ (خط)، ہر ایک حروف میں گرامر ہے – ہر نقطہ کی اونچائی، چوڑائی، گہرائی اور ان کے درمیان کی دوری معنی رکھتی ہے۔ حروف کی خوبصورتی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ آپ گرامر سے سمجھوتہ کیے بنا قلم کو کیسے گھُماتے ہیں۔ یہ پوری طرح سے ہاتھ کو صحیح طریقے سے اور مہارت کے ساتھ چلانے کے بارے میں ہے۔‘‘







