کاغذ کا ایک پھٹا ہوا ٹکڑا کھردری دیوار کے پار ہوا میں اڑتا ہے۔ اس کی زرد سطح پر لکھے ’غیر قانونی‘ اور ’مقبوضہ‘ جیسے الفاظ بہت مشکل سے نظر آتے ہیں، اور ’بے دخلی‘ کی وارننگ کیچڑ سے لتھڑی ہوئی ہے۔ کسی ملک کی تاریخ کو اس کی دیواروں کے اندر نہیں دبائے رکھا جا سکتا۔ یہ سرحدوں کی کمزور لکیروں سے آگے اور ظلم و جبر، ہمت، اور انقلاب کی علامتوں کی موجوں میں تیرتی رہتی ہے۔
وہ سڑک پر پڑے پتھروں اور اینٹوں کو بہت غور سے دیکھ رہی ہے۔ اس کی دکان کی جگہ صرف یہی بچا تھا، جو رات کے وقت اس کا گھر ہو جاتی تھی۔ تقریباً ۱۶ سال تک وہ یہاں شام کو چائے پیتی تھی اور دن کے وقت بہت سے لوگوں کو چپلیں بیچتی تھی۔ فٹ پاتھ پر اسبستوس کی چھت کے ٹکڑوں، سیمنٹ کے سلیب، اور اسٹیل کی مڑی ہوئی چھڑوں کے بیچ اس کی معمولی سی گدّی پڑی ہوئی ہے
– کسی اجڑے قبر کے پتھر کی طرح۔
کبھی یہاں ایک اور بیگم رہتی تھی۔ اودھ کی ملکہ بیگم حضرت محل۔ اس نے اپنے گھر کو برطانوی حکومت سے آزاد کرانے کے لیے بہادری سے لڑائی لڑی تھی اور اسے نیپال میں پناہ لینے کو مجبور ہونا پڑا تھا۔ یہ نو آبادت مخالف مجاہدہ آزادی اور ہندوستان کی آزادی کی لڑائی کی ابتدائی جنگجو، کافی عرصے قبل ہی فراموش کر دی گئی۔ اس کی وراثت مٹا دی گئی، اور سرحد کی دوسری طرف کاٹھمانڈو میں ایک ٹھنڈے پتھر کے طور پر یتیم پڑی ہے۔
ایسی بے شمار قبریں، احتجاج کے نشانات بر صغیر ہند کی سرزمین کے اندر گہرے دبے ہوئے ہیں۔ لیکن فراموشی اور نفرت کے کیچڑ کو ہٹانے کے لیے کوئی بلڈوزر دکھائی نہیں دیتا، احتجاج کی ان فراموش کردہ مٹھیوں کو کھود نکالنے کے لیے کوئی مشین نہیں ہوتی۔ ایسا کوئی بلڈوزر نہیں جو نوآبادیاتی تاریخ کو چکناچور کر سکے اور اس کی جگہ مظلوموں کی آوازوں کو لا کھڑا کر سکے۔ نا انصافی کے راستے میں رکاوٹ بنتا کوئی بلڈوزر نہیں۔ ابھی تک تو نہیں۔


