بھانو اپنی جھگی بستی کی تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے پہاڑی کے اوپر موجود اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے منہ پر ایک رومال بندھا ہوا ہے، اور اس کے ہاتھ میں آدھا کلو چاول اور دال کا پالی تھین بیگ ہے، جواسے امداد کی شکل میں ملا ہے۔ دوسری طرف سے کچھ لوگوں کو آتے دیکھ، بھانو گلی کے کنارے کے ایک گھر کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ پہاڑی کی طرف سے آنے والے یہ لوگ بوریاں اور گٹھری لیکر جا رہے ہیں۔ بھانو اپنے کمرے کی جانب دوبارہ چلنا شروع کرنے سے پہلے ان شناسا چہروں کو کچھ دیر تک دیکھتا ہے۔
وہ ایک تنگ کھلے نالے کے اوپر کودتا ہے۔ گلی میں ۱۰ بائی ۱۰ مربع فٹ کے کئی کمرے بند ہیں۔ ان عارضی دروازوں کے پیچھے ایک عجیب سے خاموشی پوشیدہ ہے۔ کوئی بات نہیں کر رہا ہے، لڑ نہیں رہا ہے، ہنس نہیں رہا ہے، موبائل فون پر زور سے چیخ نہیں رہا ہے، اونچی آواز میں ٹی وی نہیں دیکھ رہا ہے۔ کھانا پکانے کی کوئی تیز خوشبو بھی نہیں آ رہی ہے۔ چولہے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں۔
بھانو کا کمرہ پہاڑی کی چوٹی پر ہے۔ گھر پر، اس کی بیوی سریتا گیس کے چولہے کے پاس بیٹھی ہے اور دروازے کو لگاتار دیکھ رہی ہے۔ اس کے ہاتھ اس کے پیٹ پر ہیں، وہ چھ مہینے کی حاملہ ہے۔ نو سال کا راہل کھلونے والی اپنی چھوٹی کار کو گول گول گھماکر سیمنٹ کے فرش پر چلا رہا ہے اور اپنی ماں سے لگاتار کھانے کے لیے کچھ مانگ رہا ہے۔
’’اماں، مجھے بھوک لگی ہے! میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے۔ تم نے دودھ اور کریم والا بسکٹ بھی نہیں دیا، اما...‘‘
سریتا آہیں بھرتی ہے، شاید انجانے میں۔ ’’ہاں، میرے بچے،‘‘ وہاں سے اٹھتے ہوئے وہ کہتی ہے، ’’مجھے معلوم ہے۔ میں تمہیں کچھ دیتی ہوں۔ تمہارے پاپا آنے ہی والے ہیں۔ وہ بہت ساری چیزیں لائیں گے۔ تم باہر جاکر کھیلتے کیوں نہیں؟‘‘
’’میرے ساتھ کھیلنے والا کوئی نہیں ہے،‘‘ راہل کہتا ہے۔ ’’امّا، وکّی اور بنٹی کہاں چلے گئے؟‘‘
’’مجھے لگتا ہے، پچھلے سال کی طرح اپنے گاؤں چلے گئے۔ وہ واپس آئیں گے۔‘‘
’’نہیں اما، اسکول کے سال کے درمیان نہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ واپس آئیں گے۔ ہم انجینئر بننے والے تھے۔ ہم تینوں اسکول کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد کاروں کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک گیراج کھولنے والے تھے۔ لیکن وہ اب اسکول نہیں آنے والے!‘‘
’’تم اور تمہاری کار! تم اپنا گیراج کھولوگے، بڑا سا۔ تم ایک بڑے آدمی ہو!‘‘ سریتا، جو اب اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے، چولہے کے پیچھے کی تین الماریوں سے گزرتی ہے۔ ایک الماری پر کچھ خالی برتن، ایک کڑھائی، ایک کفگیر، چمچے، چار پلیٹیں، اور کچھ پیالیاں اور چھوٹی پلیٹیں، یہی سارے سامان ہیں۔ باقی دو الماریوں پر نمک، دال، چاول، گیہوں کا آٹا، سوکھا اناج، مصالحے، کھانا پکانے کے تیل کے لیے پلاسٹک کے جار کی ایک چھوٹی قطار ہے – سبھی جار خالی ہیں۔ وہ راہل کو دینے کے لیے کچھ ڈھونڈنے کا ناٹک کرتی ہے، ایک ایک کرکے سبھی جار کھولتی ہے۔ ان میں سے ایک میں کریم بکسٹ کا ایک خالی ریپر ہے۔ اپنی مٹھی میں ریپر کو رگڑتے ہوئے، وہ راہل کے پاس جاتی ہے اور دروازے پر بھانو کو کھڑا ہوا دیکھتی ہے، جو اپنے منہ پر بندھے رومال کو کھول رہا ہے اور ایک آہ کے ساتھ دہلیز پر بیٹھ جاتا ہے۔ راہل اپنے والد سے تھیلا لینے کے لیے خوشی سے دوڑتا ہے۔
’’آپ گھر آ گئے؟! راہل، پاپا کو پانی دو، پلیز۔‘‘
بھانو ٹھیکہ دار کے ساتھ اپنی ملاقات کو ہزارویں بار پھر سے اپنے دماغ میں دوہرا رہا ہے۔
’’پاپا، پانی... پاپا... لے لو۔ آپ کو کوئی بسٹک نہیں ملا، کیا آپ کو ملا؟‘‘ راہل نے اس کا کندھا ہلایا۔
بھانو، راہل کے ہاتھ سے گلاس لیتا ہے اور خاموشی سے پانی پینے لگتا ہے۔
’’ٹھیکہ دار نے کوئی پیسہ نہیں دیا اور کہا کہ ایک اور مہینے تک کام شروع نہیں ہوگا۔‘‘ وہ بات کرتے ہوئے سریتا کو دیکھتا ہے۔
وہ اپنی ہتھیلی کو دوبارہ اپنے پیٹ کے اُبھار پر گھماتی ہے۔ وہ اندر رہے پل رہے بچے کو آرام پہنچانے یا اس سے آرام پانے کی کوشش کر رہی ہے، یہ کہنا مشکل ہے۔
’’سرکار نے سب کچھ بند کرد یا ہے،‘‘ بھانو اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے، ’’بیماری جو ہے۔ کام پھر سے کب شروع ہوگا، اس بارے میں صرف سرکار ہی بتا سکتی ہے۔‘‘
’’بغیر پیسے کے ڈیڑھ مہینے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ دال اور چاول، کچھ نہیں بچا... ہم دوسروں کے رحم و کرم پر کب تک زندہ رہیں گے۔‘‘
’’مجھے تم کو یہاں نہیں لانا چاہیے تھا،‘‘ بھانو اپنی آواز میں احساس جرم کو چھپا نہیں سکتا۔ ’’تمہاری حالت میں...مناسب کھانے کا انتظام کرنے کے قابل نہیں ہونا۔ اگر کچھ اور مہینے ایسا ہی چلتا رہا تب کیا ہوگا؟‘‘
وہ غصے میں اپنے ہاتھوں کو اینٹھتا ہے۔ بھانو کی فیملی ڈیڑھ مہینے سے دن میں صرف ایک ہی بار کھانا کھا رہی ہے – صرف دال اور چاول، وہ بھی اگر مقامی تنظیم کے ذریعے تقسیم کیا گیا تب۔ یہ سب شروع ہونے سے پہلے، اس کی فیملی ہری سبزیاں، دودھ، اور خریدنے کے قابل ہونے کی حالت میں، کچھ پھل، کچھ سیب، سنترے، انگور کھاتی تھی۔





