گزشتہ تین برسوں میں آپ نے کتنے اسپتالوں میں دکھایا ہے؟
اس سوال کو سنتے ہی سُشیلا دیوی اور ان کے شوہر، منوج کمار کے چہرے پر تکان اور نا امیدی کا سایہ جھلکنے لگتا ہے۔ ان دونوں کو (ان کے نام یہاں بدل دیے گئے ہیں) نمبر یاد نہیں ہے کہ جون ۲۰۱۷ میں باندیکوئی شہر کے مدھر اسپتال میں جب پہلی بار سشیلا کی نس بندی ہوئی تھی، تو اس کے بعد انہوں نے اسپتالوں کے کتنے چکر لگائے، کتنے ٹیسٹ کرائے اور کیا کیا علاج کروایا۔
شادی کے ۱۰ سال میں تین لڑکیوں کے بعد جب چوتھے بچے کی شکل میں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی، تو میاں بیوی نے ۲۷ سالہ سشیلا کی نس بندی کرانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ اپنی اور اپنی فیملی کی زندگی کا بہتر انتظام کر سکیں۔ راجستھان کی دوسہ تحصیل میں ان کے گاؤں، ڈھانی جما سے ۲۰ کلومیٹر دور، باندیکوئی کا پرائیویٹ اسپتال ان کی پہلی پسند تھا، جب کہ ڈھانی جما سے محض تین کلومیٹر دور، کنڈل گاؤں میں ایک سرکاری پبلک ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) موجود ہے۔
’’[سرکاری] طبی مراکز میں نس بندی کیمپ زیادہ تر سردیوں کے مہینے میں لگائے جاتے ہیں۔ عورتیں ٹھنڈ کے مہینوں میں نس بندی کرانا پسند کرتی ہیں کیوں کہ اس وقت ان کا زخم تیزی سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر وہ گرمی کے مہینوں میں سرجری کرانا چاہیں، تو ہم انہیں دوسہ اور باندیکوئی کے پرائیویٹ اسپتالوں میں لے جاتے ہیں،‘‘ ۳۱ سالہ سنیتا دیوی کہتی ہیں، جو ایک تسلیم شدہ سماجی طبی کارکن (آشا) ہیں۔ وہ اس جوڑے کے ساتھ ۲۵ بستروں والے ایک جنرل ہاسپٹل، مدھر اسپتال گئی تھیں۔ یہ اسپتال ریاستی فیملی ویلفیئر اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ہے، اس لیے نس بندی کے لیے سشیلا سے کوئی پیسہ نہیں لیا گیا تھا، بلکہ انہیں ۱۴۰۰ روپے بطور انسینٹو دیے گئے تھے۔
سرجری کے کچھ دنوں بعد سشیلا کو حیض آ گیا، اور اس کے ساتھ درد اور تکان کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو اگلے تین سالوں تک جاری رہا۔
’’جب پہلی بار درد شروع ہوا، تو میں نے اسے گھر پر موجود درد کی گولیاں دیں۔ اس سے تھوڑا آرام ملا۔ لیکن ہر مہینے جب اسے حیض آتا، تو وہ درد سے رونے لگتی تھی،‘‘ ۲۹ سالہ منوج بتاتے ہیں۔
’’درد بڑھتا گیا، اور حد سے زیادہ خون نکلنے سے مجھے متلی آنے لگی۔ میں ہمیشہ کمزور رہتی تھی،‘‘ سشیلا کہتی ہیں، جو ایک خاتونِ خانہ اور ۸ویں کلاس تک پڑھی ہوئی ہیں۔
تین مہینے تک جب ایسے ہی چلتا رہا، تو آخر میں میاں بیوی ہچکچاتے ہوئے کنڈل کے پی ایچ سی گئے۔







