جلد از جلد طبی مدد حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ تھا، باندھ والے ذخیرۂ آب کے راستے کشتی کے ذریعے دو گھنٹے کا سفر۔ دوسرا متبادل یہ تھا کہ نیم تعمیر شدہ سڑک سے ہوتے ہوئے اونچی پہاڑی کو پار کرنا۔
پربا گولوری نو ماہ کی حاملہ تھیں اور کسی بھی وقت ڈلیوری کی نوبت آ سکتی تھی۔
دوپہر میں تقریباً ۲ بجے جب میں کوٹاگُڈا بستی پہنچی، تو پربا کے پڑوسی یہ سوچ کر ان کی جھونپڑی کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے کہ بچہ شاید اس دنیا میں نہیں آ سکے گا۔
۳۵ سالہ پربا نے اپنے پہلے بچے کو اُس وقت کھو دیا تھا، جب وہ محض تین مہینے کا تھا۔ پربا کی بیٹی تقریباً چھ سال کی ہو چکی ہے۔ انہوں نے دونوں بچوں کو، روایتی طور پر ڈلیوری کرانے والی دائیوں کی مدد سے گھر پر ہی جنم دیا تھا، اور زیادہ پریشانی بھی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن اس بار دائی ہچکچا رہی تھیں۔ ان کا اندازہ تھا کہ اس بار ڈلیوری میں مشکل آنے والی ہے۔
اُس دوپہر جب فون کی گھنٹی بجی، تب میں پاس کے ایک گاؤں میں تھی اور ایک اسٹوری پر کام کر رہی تھی۔ ایک دوست کی موٹر بائک (عام طور پر میں جس اسکوٹی سے چلتی ہوں، اس سے ان پہاڑی سڑکوں پر چلنا مشکل تھا) لیکر، میں اوڈیشہ کے ملکانگیری ضلع کی اس کوٹاگُڈا بستی کی طرف بھاگی، جہاں مشکل سے ۶۰ لوگ رہتے ہیں۔
یہاں پہنچنا تو مشکل ہے ہی، وسطی ہندوستان کے آدیواسی بیلٹ کے دوسرے حصوں کی طرح، چترکونڈا بلاک کی اس بستی میں نکسل ملی ٹینٹ اور ریاستی سکیورٹی فورسز کے درمیان آئے دن جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ یہاں کئی جگہوں پر، سڑک اور دوسری بنیادی سہولیات خستہ حالت میں ہیں اور ناکافی ہیں۔












