یہ وہ غروب آفتاب نہیں ہے جسے دیکھنے کا وہ انتظار کر رہی ہیں۔ اپنے ایک کمرے کے باورچی خانہ کے باہر بیٹھی رنداونی سُروسے، اسٹریٹ لائٹ جلنے سے پہلے بہت دیر تک اندھیرے میں گھورتی رہتی ہیں۔ اپنے چہرے پر ایک اُداس مسکراہٹ کے ساتھ، وہ کہتی ہیں، ’’یہی وہ جگہ ہے جہاں میرے شوہر بیٹھ کر اپنا پسندیدہ ابھنگ گاتے تھے۔‘‘
ہندو دیوتا وٹھّل کی پرارتھنا کرتے ہوئے بھکتی گیت گانا ان کے شوہر، پربھاکر سُروَسے کا پسندیدہ شغل تھا۔ وہ دو سال پہلے ۶۰ سال کا ہونے پر، مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن سے ایک کلرک کے طور پر ریٹائر ہوئے تھے۔ تبھی سے، پربھاکر مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے پرلی قصبہ میں واقع اپنے گھر پر ہر شام کو بھجن گاتے اور اپنے پڑوسیوں کو خوش کر دیتے تھے۔
لیکن ۹ اپریل، ۲۰۲۱ کو ان کے اندر کووڈ۔۱۹ کی علامات نظر آنے لگیں، جس کے بعد انہوں نے بھجن گانا بند کر دیا۔
دو دن بعد، پربھاکر کو پرلی سے ۲۵ کلومیٹر دور واقع سوامی رامانند تیرتھ دیہی سرکاری میڈیکل کالج، امبے جوگائی (ایس آر ٹی آر ایم سی اے) میں داخل کرایا گیا۔ اس کے دس دن بعد، سانس لینے میں دقت ہونے کے سبب ان کا انتقال ہو گیا۔
ان کی موت اچانک ہوئی تھی۔ ’’صبح ساڑھے ۱۱ بجے، میں نے انہیں بسکٹ کھلایا تھا،‘‘ ان کے ۳۶ سالہ بھتیجے ویدیہ ناتھ سُروَسے کہتے ہیں، جو پرلی میں چینی فاسٹ فوڈ کی ایک دکان چلاتے ہیں۔ ’’انہوں نے جوس بھی مانگا تھا۔ ہم نے آپس میں بات چیت کی۔ وہ ٹھیک لگ رہے تھے۔ دوپہر ڈیڑھ بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔‘‘
درمیانی گھنٹوں میں ویدیہ ناتھ اسپتال کے وارڈ میں موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوپہر میں آکسیجن کی سپلائی کا دباؤ اچانک کم ہونے لگا۔ پربھاکر، جو تب تک بات چیت اور ہنسی مذاق کر رہے تھے، سانس لینے کے لیے جدوجہد کرنے لگے۔ ’’میں پریشان ہوکر ڈاکٹروں کو لگاتار بلاتا رہا، لیکن کسی نے دھیان نہیں دیا،‘‘ ویدیہ ناتھ بتاتے ہیں۔ ’’وہ تھوڑی دیر تک سانس لینے کے لیے جدوجہد کرتے رہے اور اس کے فوراً بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ میں نے ان کے سینہ کو پمپ کیا، ان کے پیر رگڑے، لیکن کچھ بھی کام نہیں آیا۔‘‘










