یہ ۱۹۹۷ کی بات ہے۔
مغربی بنگال اور منی پور کی ٹیمیں، سینئر ویمنز نیشنل فٹ بال چمپئن شپ کے فائنل میچ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں۔ بنگال اِس سالانہ بین ریاستی ٹورنامنٹ کے گزشتہ تین فائنل میں منی پور سے ہار چکا تھا، لیکن اس بار کے فائنل میں اس کی ٹیم زرد اور قرمزی رنگ میں پوری طاقت سے میدان میں کھڑی تھی۔ فٹ بال کھلاڑی بندنا پال، مغربی بنگال کے ہلدیا شہر میں واقع دُرگا چک اسٹیڈیم میں اپنے گھریلو میدان پر کھیل رہی تھیں۔
سیٹی بجی اور میچ شروع ہو گیا۔
اس سے پہلے، ۱۶ سالہ اس اسٹرائکر نے چمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میچ میں تین گول داغ کر ہیٹ ٹرک بنائے تھے۔ اُس میچ میں مغربی بنگال نے گوا کو ہرایا تھا، لیکن پال کا بایاں ٹخنہ زخمی ہو گیا تھا: ’’تب بھی میں نے سیمی فائنل [پنجاب کے خلاف] کھیلا، لیکن مجھے درد ہوتا رہا۔ اُس دن جب ہم لوگ فائنل میں پہنچے، تو میں کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا۔‘‘
مغربی بنگال کی سب سے چھوٹے کھلاڑی، پال نے بینچ پر بیٹھ کر اس چمپئن شپ کا فائنل دیکھا۔ میچ ختم ہونے میں کچھ ہی منٹ باقی بچے تھے اور تب تک کسی بھی ٹیم نے گول نہیں کیا تھا۔ مغربی بنگال کی کوچ، شانتی ملک، ظاہر ہے اس کارکردگی سے خوش نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ، ان کے ذہنی تناؤ کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اُس دن ۱۲ ہزار سیٹوں والے اس اسٹیڈیم میں ناظرین کے درمیان خود ریاست کے وزیر اعلیٰ اور کھیل کے وزیر بھی موجود تھے۔ آخر میں، کوچ ملک نے پال سے تیار ہونے کے لیے کہا۔ پال بتاتے ہیں، ’’’میری حالت تو دیکھیں‘، میں نے ان سے کہا۔ لیکن کوچ نے کہا، ’اگر تم کھڑی ہو جاؤ، تو گول ہو جائے گا۔ میرا دل یہی کہہ رہا ہے‘۔‘‘
لہٰذا، درد کو دور کرنے والے دو انجیکشن فوری طور پر لگانے، اور زخم کی جگہ پر دو پٹّی کس کر باندھنے کے بعد، پال کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے۔ میچ برابری پر ختم ہوا اور گولڈن گول کے لیے اضافی وقت دیا گیا – یعنی جو بھی ٹیم سب سے پہلے گول مارے گی، اسے چمپئن شپ کا فاتح قرار دیا جائے گا۔
’’میں نے کراس بار (گول کے لوہے والے ڈنڈے) پر نشانہ لگایا، اور گیند دائیں جانب کو تیزی سے گئی۔ گول کیپر نے چھلانگ لگائی۔ لیکن گیند اسے پار کرتے ہوئے جال (نیٹ) سے ٹکرائی۔‘‘





















