’’لڑکپن میں مجھے بتایا گیا تھا کہ ہمارا جزیرہ ایک بڑے مونگے پر ٹکا ہوا ہے۔ مونگا نیچے ہے، اسے پکڑے ہوئے ہے۔ اور ہمارے ارد گرد ایک لیگون (خلیج) ہے، جو ہمیں سمندر سے بچاتا ہے،‘‘ بِترا جزیرہ پر رہنے والے ۶۰ سالہ ماہی گیر، بی حیدر کہتے ہیں۔
’’جب میں چھوٹا تھا، تو مدوجزر کم ہونے پر ہم مونگے کو دیکھ سکتے تھے،‘‘ بِترا کے ایک دوسرے ماہی گیر، ۶۰ سالہ عبدالقادر کہتے ہیں۔ ’’یہ خوبصورت تھا۔ اب ان میں سے زیادہ کچھ نہیں بچا ہے۔ لیکن بڑی موجوں کو دور رکھنے کے لیے ہمیں اس مونگے کی ضرورت ہے۔‘‘
وہ مونگا – لکشدیپ کے جزائر کی کہانیوں، تصورات، زندگی، معاشی اور حیاتیاتی نظام کا مرکز – دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے، ساتھ ہی کئی دیگر تبدیلیاں بھی ہو رہی ہیں، جسے یہاں کے ماہی گیر دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔
’’اسے سمجھنا آسان ہے۔ فطرت بدل گئی ہے،‘‘ اگتّی جزیرہ کے ۶۱ سالہ ماہی گیر مُنیامِن کے کے بتاتے ہیں، جنہوں نے ۲۲ سال کی عمر سے ہی مچھلی پکڑنا شروع کر دیا تھا۔ ’’اُن دنوں، مانسون صحیح وقت پر [جون میں] آتا تھا، لیکن آج ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ مانسون کب آئے گا۔ ان دنوں مچھلیاں کم ہیں۔ اُن دنوں ہمیں مچھلیاں پکڑنے کے لیے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا تھا، مچھلیوں کے سبھی جھنڈ قریب میں ہی رہا کرتے تھے۔ لیکن اب مچھلیوں کی تلاش میں لوگ کئی دنوں تک غائب رہتے ہیں، کبھی کبھی ہفتوں تک۔‘‘
کیرالہ کے ساحل سے آگے، بحر ہند میں واقع ہندوستان کے سب سے چھوٹے مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین علاقہ)، لکشدیپ میں اگتی اور بِترا کے درمیان کی دوری کشتی سے تقریباً سات گھنٹے کی ہے، جہاں سب سے ماہر ماہی گیر رہتے ہیں۔ ملیالم اور سنسکرت دونوں میں ’لکشدیپ‘ کا مطلب ہے ایک لاکھ جزیرے۔ لیکن ہمارے دور کی حقیقت یہ ہے کہ اب یہاں پر صرف ۳۶ جزیرے ہیں، جو کل ۳۲ مربع کلومیٹر کے رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ، ان جزائر کا پانی ۴ لاکھ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اور سمندری زندگی اور وسائل سے مالامال ہے۔
صرف ایک ضلع والے اس یونین علاقہ میں ہر ساتواں آدمی ایک ماہی گیر ہے – ۶۴۵۰۰ کی آبادی (مردم شماری ۲۰۱۱) میں سے ۹ ہزار سے زیادہ لوگوں کا پیشہ مچھلی پکڑنا ہے۔






