شمال مغربی مہاراشٹر کی ستپوڑہ پہاڑیوں کے درمیان واقع پھلئی گاؤں میں، ایک پھوس کی جھونپڑی کے اندر آٹھ سالہ شرمیلا پاورا اپنی ’اسٹڈی ٹیبل‘ پر بڑی قینچی، کپڑے، سوئی اور دھاگے کے ساتھ بیٹھی ہے۔
میز پر ایک پرانی سلائی مشین رکھی ہوئی ہے، جس پر وہ کپڑا رکھا ہے جسے شرمیلا کے والد نے گزشتہ رات ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ شرمیلا اسے اٹھاتی ہے اور سلائی شروع کردیتی ہے، اور سلائی کے اپنے ہنر کے سہارے پیڈل مارنے لگتی ہے۔
مارچ ۲۰۲۰ میں لاک ڈاؤن شروع کے بعد اسکول بند ہو گئے تھے، تب سے نندربار ضلع کے تورن مال علاقے میں واقع اس گاؤں میں یہ اسٹڈی ٹیبل ہی اس کے سلائی مشین سیکھنے کی جگہ بن چکا ہے۔ وہ کہتی ہے، ’’ماں اور بابا کو سلائی کرتے دیکھ، میں نے خود ہی مشین چلانا سیکھا ہے۔‘‘
۱۸ مہینے سے اسکول کھلا نہ ہونے کے سبب، وہ وہاں کی ساری پڑھائی تقریباً بھول چکی ہے۔
پھلئی میں کوئی اسکول نہیں ہے۔ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی امید کے ساتھ، جون ۲۰۱۹ میں شرمیلا کے والدین نے اپنے گاؤں سے تقریباً ۱۴۰ کلومیٹر دور، نندربار شہر کے اٹل بہاری واجپئی بین الاقوامی رہائشی اسکول میں اس کا داخلہ کروایا تھا۔ یہ اسکول، ضلع پریشد کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور مہاراشٹر انٹرنیشنل ایجوکیشن بورڈ سے جڑی تقریباً ۶۰ دھرم شالاؤں (درج فہرست قبائل کے بچوں کے لیے پورے مہاراشٹر میں چلائے جا رہے مخصوص اسکول) میں سے ایک ہے۔ سال ۲۰۱۸ میں قائم کردہ بورڈ نے ’بین الاقوامی سطح‘ کی تعلیم فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اور اس اسکول کو مقامی طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا اور مراٹھی میں درس و تدریس جاری رہی۔ (بورڈ کو تب سے ختم کر دیا گیا ہے اور اب یہ اسکول ریاستی بورڈ کے تحت آتے ہیں۔)
















