ہمیں دیر ہو گئی تھی۔ ’’گن پتی بالا یادو آپ سے ملنے کے لیے، اپنے گاؤں سے پہلے ہی دو بار آ چکے ہیں،‘‘ شِر گاؤں میں ہمارے ایک صحافی دوست، سمپت مورے نے بتایا۔ ’’وہ دونوں ہی بار اپنے گاؤں، رام پور لوٹ گئے۔ آپ کے پہنچنے کی خبر دینے پر وہ تیسری بار یہاں آئیں گے۔‘‘ ان دونوں گاؤوں کے درمیان کی دوری پانچ کلومیٹر ہے اور گن پتی یادو سائیکل سے یہ دوری طے کرتے ہیں۔ لیکن تین چکر لگانے کا مطلب ہوا ۳۰ کلومیٹر طے کرنا، وہ بھی مئی کے وسط میں، یعنی گرمی کے دن میں دھول سے بھری ’سڑک‘ پر، پچیس سال پرانی سائیکل سے۔ اور سائیکل چلانے والے کی عمر ہے ۹۷ سال۔
مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کے کاڈے گاؤں بلاک کے شرگاؤں میں، ہم جیسے ہی مورے کے دادا کے گھر پر دوپہر کا کھانا کھانے جا رہے تھے، تبھی اچانک گن پتی بالا یادو اپنی سائیکل سے وہاں پہنچے۔ میں نے جب معذرت چاہی کہ میری وجہ سے انھیں اتنی دھوپ میں کئی چکر لگانے پڑے، تو وہ مسکرانے لگے۔ ’’کوئی بات نہیں،‘‘ انھوں نے نرم لہجہ اور پیاری مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’میں کل دوپہر کو ایک شادی میں ویٹا گیا تھا۔ وہاں بھی، سائیکل سے ہی گیا تھا۔ میں اسی طرح چلتا رہتا ہوں۔‘‘ رام پور سے ویٹا آنے جانے کا مطلب ہے ۴۰ کلومیٹر کا چکر لگانا۔ اور گزشتہ کل کچھ زیادہ ہی گرمی تھی، جب درجہ حرارت ۴۰ سیلسیس کے درمیان پہنچ گیا تھا۔
’’ایک یا دو سال پہلے، وہ پانڈھر پور تک اسی طرح گئے اور آئے تھے۔ تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر،‘‘ سمپت مورے کہتے ہیں۔ ’’اب وہ اتنی دوری طے نہیں کرتے ہیں۔‘‘







