’’میں اپنی دو بیٹیوں کے لیے ایک الگ زندگی چاہتی ہوں،‘‘ چاندی سی چمکتی مچھلیوں پر نمک کا برادہ چھڑکتی ہوئی وِسلاتچی کہتی ہیں۔ وہ ۴۳ سال کی ہیں اور ۲۰ سال سے بھی زیادہ عرصے سے تمل ناڈو کے سمندری ساحل پر واقع کڈلور اولڈ ٹاؤن ہاربر میں مچھلیوں کو سُکھانے کا کام کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’’میری پرورش ایک بے زمین دلت فیملی میں ہوئی تھی۔ میں دھان کی کھیتی میں زرعی مزدور کے طور پر کام کرنے والے اپنے والدین کی مدد کرتے ہوئے بڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے زندگی میں کبھی تعلیم حاصل نہیں کی۔‘‘ وسلاتچی کی شادی جب شکتی ویل سے ہوئی تھی، تب وہ صرف ۱۵ سال کی تھیں، اور دو سال بعد ہی انہوں نے بھیم راؤ نگر میں اپنی بڑی بیٹی شالنی کو جنم دیا۔ یہ کڈلور ضلع میں واقع ایک چھوٹی سی بستی ہے۔
بھیم راؤ نگر میں زرعی مزدوری کا کام نہیں ملنے کی وجہ سے وسلاتچی روزگار کی تلاش میں کڈلور اولڈ ٹاؤن ہاربر چلی آئیں۔ تقریباً ۱۷ سال کی عمر میں ان کی ملاقات کملا وینی سے ہوئی، جنہوں نے ان کا تعارف مچھلیوں کو سُکھانے کے کام سے کرایا۔ بعد میں وسلاتچی نے اسے اپنے کاروبار کے طور پر اپنا لیا۔
کھلی دھوپ میں مچھلیوں کو سُکھانا مچھلیوں کی پروسیسنگ کا سب سے پرانا طریقہ ہے۔ اس کام میں مچھلیوں پر نمک کی پرتوں کا چھڑکاؤ، انہیں دھواں دینا اور اچار بنانے وغیرہ جیسے متعدد دوسرے کام شامل ہیں۔ کوچی میں واقع سینٹرل مرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے ۲۰۱۶ میں کی گئی مرین فشریز مردم شماری کے مطابق کڈلور ضلع میں مچھلی کے کاروبار میں سرگرم تقریباً ۵۰۰۰ خواتین میں سے کم از کم ۱۰ فیصد ماہی گیر خواتین مچھلیوں کو سُکھانے، ان کی کھال وغیرہ کو الگ کرنے اور انہیں محفوظ کرنے جیسے کاموں میں مشغول ہیں۔
فشریز محکمہ کی ریاست کی ویب سائٹ کے مطابق، تمل ناڈو میں سمندری مچھلیوں کے کاروبار میں شریک خواتین کی تعداد ۲۰۲۱-۲۰۲۰ میں ۶ء۲ لاکھ کے آس پاس تھی۔

















