ہندوستانی دارالحکومت اور اس کے ارد گرد – مغربی دہلی میں ٹیکری، ہریانہ کی سرحد پر سنگھو، راجستھان کی سرحد پر شاہجہاں پور – اور مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں کسان، ستمبر ۲۰۲۰ میں پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف کئی ہفتوں سے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ قوانین زراعت کے اوپر بڑے کارپوریٹوں کو مزید اختیارات فراہم کرکے ان کے معاش کو برباد کر دیں گے، اور ایم ایس پی اور اے پی ایم سی سمیت کاشتکاروں کو ملنے والی مدد کے بنیادی ذرائع کو کمزور کر دیں گے۔ ان احتجاجی مقامات سے پاری کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کسانوں یا گروہوں کو بھلے ہی انفرادی یا مخصوص علاقے کی فکر ہو سکتی ہے، لیکن وہ سبھی یک زبان ہوکر کہہ رہے ہیں: زرعی قوانین کو واپس لو۔ ہماری مکمل کوریج یہاں پڑھیں
لابنی جنگی مغربی بنگال کے ندیا ضلع سے ہیں اور سال ۲۰۲۰ سے پاری کی فیلو ہیں۔ وہ ایک ماہر پینٹر بھی ہیں، اور انہوں نے اس کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں حاصل کی ہے۔ وہ ’سنٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز‘، کولکاتا سے مزدوروں کی ہجرت کے ایشو پر پی ایچ ڈی لکھ رہی ہیں۔