زرعی-قوانین-کے-خلاف-احتجاجی-مظاہرے-مکمل-کوریج

Jan 16, 2021

زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے: مکمل کوریج

ہندوستانی دارالحکومت اور اس کے ارد گرد – مغربی دہلی میں ٹیکری، ہریانہ کی سرحد پر سنگھو، راجستھان کی سرحد پر شاہجہاں پور – اور مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں کسان، ستمبر ۲۰۲۰ میں پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف کئی ہفتوں سے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ قوانین زراعت کے اوپر بڑے کارپوریٹوں کو مزید اختیارات فراہم کرکے ان کے معاش کو برباد کر دیں گے، اور ایم ایس پی اور اے پی ایم سی سمیت کاشتکاروں کو ملنے والی مدد کے بنیادی ذرائع کو کمزور کر دیں گے۔ ان احتجاجی مقامات سے پاری کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کسانوں یا گروہوں کو بھلے ہی انفرادی یا مخصوص علاقے کی فکر ہو سکتی ہے، لیکن وہ سبھی یک زبان ہوکر کہہ رہے ہیں: زرعی قوانین کو واپس لو۔ ہماری مکمل کوریج یہاں پڑھیں

Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]

Author

PARI Contributors

Lead Illustration

Labani Jangi

لابنی جنگی مغربی بنگال کے ندیا ضلع سے ہیں اور سال ۲۰۲۰ سے پاری کی فیلو ہیں۔ وہ ایک ماہر پینٹر بھی ہیں، اور انہوں نے اس کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں حاصل کی ہے۔ وہ ’سنٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز‘، کولکاتا سے مزدوروں کی ہجرت کے ایشو پر پی ایچ ڈی لکھ رہی ہیں۔

Translator

PARI Translations, Urdu