اگست ۲۰۲۰ میں، اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد انجنی یادو میکے آ گئی تھیں۔ وہ ابھی تک اپنے سسرال واپس نہیں لوٹی ہیں۔ ۳۱ سالہ انجنی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ اب اپنے میکے میں رہتی ہیں۔ ان کا میکہ بہار کے گیا ضلع میں بودھ گیا بلاک کے بکرور گاؤں میں ہے۔ وہ اپنے شوہر کے گاؤں کا نام بتانا نہیں چاہتیں، حالانکہ وہاں سے ان کا سسرال آدھے گھنٹے سے بھی کم دوری پر ہے۔
’’سرکاری اسپتال میں جب میں نے اپنے دوسرے بچے کو جنم دیا تھا، اس کے دو دنوں کے بعد ہی میری بھابھی نے مجھ سے کھانا بنانے اور صفائی کرنے کو کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی بچے کے جنم کے بعد گھر آنے پر ساری ذمہ داریاں اٹھائی تھیں۔ وہ مجھ سے دس سال بڑی ہیں۔ زچگی کے دوران میرے جسم میں خون کی کافی کمی ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی میری نرس نے مجھ سے کہا تھا کہ میرے جسم میں خون کی کافی زیادہ کمی [اینیمیا کا سنگین مسئلہ] ہے اور مجھے پھل اور سبزیاں کھانی چاہئیں۔ اگر میں اپنے سسرال میں رکی ہوتی، تو میری طبیعت اور زیادہ بگڑ جاتی۔‘‘
نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس۔۵) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں زیادہ تر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بچوں اور عورتوں میں اینیمیا، یعنی جسم میں خون کی کمی کا مسئلہ کافی سنگین ہو گیا ہے۔
انجنی بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر، ۳۲ سالہ سکھی رام گجرات کے سورت میں ایک کپڑا مل میں کام کرتے ہیں۔ وہ پچھلے ڈیڑھ سالوں سے گھر نہیں آئے ہیں۔ انجنی کے مطابق، ’’وہ میری زچگی کے دوران گھر آنے والے تھے، لیکن ان کی کمپنی نے انہیں نوٹس دیا تھا کہ اگر وہ دو دن سے زیادہ کی چھٹی لیں گے، تو انہیں نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ کورونا وبائی مرض کے بعد معاشی، جذباتی اور صحت کی سطح پر ہم غریبوں کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ اس لیے، میں یہاں اکیلے ہی ساری چیزوں کا سامنا کر رہی تھی۔‘‘
انہوں نے پاری کو بتاتے ہوئے کہا، ’’اس لیے مجھے وہاں سے بھاگنا پڑا، کیوں کہ ان کی غیر موجودگی میں حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے تھے۔ زچگی کے بعد صحت کی دیکھ بھال کا تو چھوڑئے، گھر کے کاموں یا بچے کو سنبھالنے میں کوئی بھی کسی طرح کی مدد نہیں کرتا تھا۔‘‘ انجنی یادو کو ابھی بھی خون کی سخت کمی ہے، ویسے ہی جیسے ریاست کی لاکھوں عورتیں اینیمیا کی شکار ہیں۔
این ایف ایچ ایس۔۵ کی رپورٹ کے مطابق، بہار کی ۶۴ فیصد عورتیں اینیمیا کی شکار ہیں۔
کورونا وبائی مرض کے سلسلے میں ۲۰۲۰ کی گلوبل نیوٹریشن رپورٹ کے مطابق، ’’ہندوستان نے عورتوں کے جسم میں خون کی کمی کے مسئلہ کو کم کرنے کے اپنے ہدف میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے، اور ملک کی ۱۵ سے ۴۹ سال کی تقریباً ۵۱ اعشاریہ ۴ فیصد عورتیں اینیمیا کی شکار ہیں۔‘‘








