اپنے والد کی برسی کے موقع پر، تیرو مورتی نے بطور نذرانہ کچھ عجیب و غریب چیزیں پیش کیں: یعنی دس قسم کے صابن، کئی قسم کے ناریل تیل اور ہلدی کا پاؤڈر، جو انہیں بہت پسند ہے۔ ان چیزوں کے علاوہ، سُندر مورتی کی ہار سے سجی تصویر کے سامنے سرخ کیلے کا گُچھّا، پھول، ناریل، اور جلتا ہوا کافور بھی رکھا ہوا تھا۔
تیرو مورتی اپنی ایک فیس بُک پوسٹ میں لکھتے ہیں، ’’اپّا کے لیے اس سے بہتر نذرانہ اور کیا ہو سکتا ہے؟‘‘ اُن کے والد نے منجل (ہلدی) کی کھیتی کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن لوگوں کے منع کرنے کے باوجود، تیرو نے ہلدی کی کھیتی کرنا شروع کر دیا۔ وہ ہنستے ہوئے بتاتے ہیں، ’’انہوں نے مجھے ملّی (چنبیلی) اُگانے کا مشورہ دیا کیوں کہ پھولوں سے یومیہ آمدنی ہوتی ہے۔ میں نے جب منجل لگائی، تو وہ میرا مذاق اڑانے لگے۔‘‘ لیکن تیرو نے اُن سبھی کو غلط ثابت کر دیا۔ یہ ایک انوکھی کہانی ہے، جو ہلدی کی کھیتی سے حاصل ہونے والی جیت پر مبنی ہے۔
۴۳ سالہ تیرو مورتی اور ان کے بھائی کے پاس، تمل ناڈو کے ایروڈ ضلع کے بھوانی ساگر بلاک میں واقع اُپّوپلّم بستی میں ۱۲ ایکڑ کی مشترکہ زمین ہے، جہاں وہ تین فصلیں اُگاتے ہیں – ہلدی، کیلا اور ناریل۔ لیکن وہ اسے تھوک (ہول سیل) میں نہیں بیچتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنا بے معنی ہوگا، کیوں کہ قیمتوں پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے تاجر، کارپوریٹ اور حکومتیں ہی قیمتیں طے کرتی ہیں۔
ہندوستان، ہلدی کے پھلتے پھولتے بازار میں دنیا کا سب سے بڑا کھلاڑی ہے۔ سال ۲۰۱۹ میں یہاں سے ۱۹۰ ملین امریکی ڈالر کے برابر ہلدی برآمد کی گئی – جو کہ عالمی تجارت کا ۶۲ اعشاریہ ۶ فیصد ہے۔ لیکن، ہندوستان ہلدی کی درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بھی ہے، جہاں ۱۱ اعشاریہ ۳ فیصد ہلدی درآمد ہوتی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں درآمد میں ہونے والی اضافہ کی وجہ سے ہندوستان میں ہلدی کی کھیتی کرنے والے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔
گھریلو بازاروں – یعنی ایروڈ کی منڈیوں – میں ان کا استحصال پہلے سے ہی ہو رہا ہے۔ قیمت کا تعین بڑے تاجر اور خریدار کرتے ہیں۔ آرگینک پیداوار کی قیمت الگ سے طے نہیں کی جاتی، اور سال در سال اس میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سال ۲۰۱۱ میں ایک کوئنٹل ہلدی کی قیمت ۱۷ ہزار روپے تھی۔ اگلے سال، اس کی قیمت تقریباً ایک چوتھائی گھٹ گئی۔ ۲۰۲۱ میں ایک کوئنٹل کی اوسط قیمت تقریباً ۷ ہزار روپے تھی۔
تیرو مورتی نے اپنی چالاکی، استقامت اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی مدد سے ایک سیدھا حل یہ نکال لیا کہ وہ اس کی قدر میں اضافہ کرنے لگے، یعنی اس سے الگ الگ چیزیں بنانے لگے۔ حالانکہ ان کے اس طریقے کو بڑے پیمانے پر اختیار نہیں کیا جا سکتا تھا، لیکن اس سے انہیں کامیابی ضرور حاصل ہوئی۔ اس کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’کھیت پر ایک ناریل کی قیمت بھلے ہی ۱۰ روپے ہو، لیکن مجھے اس کی تین گنا زیادہ قیمت ملتی ہے کیوں کہ میں اس کا تیل نکالتا ہوں، پھر اس سے صابن بناتا ہوں۔ ہلدی کے ساتھ بھی یہی کرتا ہوں۔ ڈیڑھ ایکڑ کھیت میں ہلدی اُگاتا ہوں۔ اگر میں نے اسے منڈی میں ۳۰۰۰ روپے کلو کے حساب سے فروخت کیا، تو مجھے آرگینک ہلدی کے ہر ایک کلو پر تقریباً ۵۰ روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘‘



























