شاہ بائی گھرات ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے کورونا وائرس کا پیچھا کر رہی تھیں، اور آخرکار ایک دن وہ بھی اس وائرس کا شکار ہو گئیں۔ منظور شدہ سماجی صحت کارکن یعنی آشا ورکر کے طور پر شاہ بائی، مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں واقع اپنے گاؤں سلطانپور میں گھر گھر جا کر کووڈ۔۱۹ کا ڈیٹا جمع کر رہی تھیں۔ لیکن، مئی کے آخری ہفتہ میں ان کا سب سے بڑا ڈر سچ ثابت ہو گیا، جب وہ کورونا وائرس کی چپیٹ میں آ گئیں۔
شاہ بائی (۳۸) کو وبائی مرض کے دوران اپنی نوکری سے جڑے خطرات کے بارے میں معلوم تھا، لیکن انہیں اس کے برے نتائج کا اندازہ نہیں تھا۔ ان کا کووڈ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے فوراً بعد، ان کی ماں بھی کووڈ سے متاثر ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد، ان کے چار بھتیجے بھی اس کی چپیٹ میں آ گئے۔ اس کی وجہ سے ان کی پوری فیملی مشکلات میں گھر گئی۔
شاہ بائی کو ٹھیک ہونے میں کچھ ہفتے لگ گئے۔ شاہ بائی کہتی ہیں، ’’میرے بھتیجے بھی ٹھیک ہو گئے، لیکن میری ماں کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ ’’میری ماں کے علاج میں ڈھائی لاکھ روپے بھی خرچ ہوئے۔ مجھے ہسپتال کا بل بھرنے کے لیے اپنی ڈھائی ایکڑ زمین اور کچھ زیورات بیچنے پڑے۔‘‘
آشا کارکن کے طور پر ان کا کام کبھی آسان نہیں رہا تھا، لیکن وبائی مرض نے اسے مزید مشکل بنا دیا ہے۔ شاہ بائی بتاتی ہیں، ’’مجھے دھمکیوں اور گالیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لوگ شروعات میں وبائی مرض کی علامتوں کو چھپاتے تھے۔ مجھے اپنا کام کرنے کے لیے گاؤں میں بہت سے منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘
مہاراشٹر میں ۷۰ ہزار سے زیادہ منظور شدہ آشا کارکن ہیں۔ مارچ ۲۰۲۰ میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد سے ہی وہ اس کے خلاف جاری لڑائی کی پہلی صف میں کھڑی رہی ہیں۔ گھر گھر جا کر دورہ کرنے کے علاوہ، وہ گاؤوں میں ٹیکہ لگوانے سے جھجک رہے لوگوں سے بھی نمٹتی ہیں۔












