ایئرپّا باگوے کو مارچ ۲۰۱۹ میں جب بنگلورو میں پروجیکٹ مینیجر کی نوکری ملی، تو انہیں یہ بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک سال بعد لاک ڈاؤن کے سبب ان کی نوکری چلی جائے گی اور وہ جون ۲۰۲۰ میں، شمال مشرقی کرناٹک کے بیدر ضلع میں اپنے گاؤں، کامتھانا میں منریگا کے مقامات پر کام کر رہے ہوں گے۔
’’ایک مہینہ تک گھر پر بیکار بیٹھے رہنے کے بعد، میں نے اپریل میں نریگا کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کی، کمانے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ میری فیملی زندہ رہے۔ جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا، تو ہمارے پاس پیسہ بالکل بھی نہیں تھا۔ میری ماں کو بھی کام ملنا مشکل ہو رہا تھا کیوں کہ کھیتوں کے مالک مزدوروں کو نہیں بلا رہے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے سبب ان کی جو نوکری چلی گئی، وہ بہت محنت اور بڑھتے قرض اور ان کے اہل خانہ کے تعاون اور عزم کی بناپر ملی تھی کہ تعلیم سے ان کے معیار زندگی اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
ایئرپّا نے اگست ۲۰۱۷ میں بیدر کے ایک پرائیویٹ کالج سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی تھی اور اس سے پہلے، ۲۰۱۳ میں، اسی شہر کے ایک سرکاری پولی ٹیکنک سے آٹوموبائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا تھا۔ ڈگری کورس کے لیے داخلہ سے پہلے انہوں نے آٹھ مہینے تک پونہ میں زرعی مشینری بنانے والی ایک بین الاقوامی کمپنی میں تکنیکی مہارت حاصل کرنے والے کے طور پر کام کیا تھا، جہاں انہیں ہر مہینے ۱۲ ہزار روپے ملتے تھے۔ ’’میں ایک اچھا طالب علم تھا، اس لیے مجھے لگا کہ میں بڑی ذمہ داریاں لے سکتا ہوں اور زیادہ پیسے کما سکتا ہوں۔ میں نے سوچا کہ ایک دن مجھے بھی لوگ انجینئر کہیں گے،‘‘ ۲۷ سالہ ایئرپا کہتے ہیں۔
ان کی فیملی نے ان کی تعلیم کے لیے کئی قرض لیے۔ ’’تین سال [بی ٹیک] میں، مجھے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کی ضرورت تھی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’مقامی سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) سے میرے والدین کبھی ۲۰ ہزار روپے لیتے تو کبھی ۳۰ ہزار روپے۔‘‘ دسمبر ۲۰۱۵ میں، جب وہ اپنے پانچویں سیمسٹر میں تھے، تو ان کے ۴۸ سالہ والد، ایک مزدور، کا یرقان (پیلیا) کے سبب انتقال ہو گیا۔ ان کے علاج کے لیے، فیملی نے ایس ایچ جی اور رشتہ داروں سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے مزید قرض لیے۔ ’’میں نے جب اپنی ڈگری مکمل کر لی، تو میرے کندھوں پر کئی ذمہ داریاں آن پڑیں،‘‘ ایئرپا کہتے ہیں۔
اس لیے جب انہیں بنگلورو میں ۲۰ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر پلاسٹک مولڈنگ مشین بنانے کی ایک چھوٹی سی اکائی میں پروجیکٹ مینیجر کے طور پر نوکری ملی، تو ان کے اہل خانہ کافی خوش تھے۔ یہ مارچ ۲۰۱۹ کی بات ہے۔ ’’میں ہر مہینے اپنی ماں کو ۸-۱۰ ہزار روپے بھیجتا تھا۔ لیکن، لاک ڈاؤن شروع ہوتے ہی سب کچھ بدل گیا۔‘‘










