’’تین آنی دون کِٹّی [تین جمع دو کتنے ہوئے]؟‘‘ پرتبھا ہلیم پوچھتی ہیں۔ ان کے سامنے زمین پر ۷ سے ۹ سال کے تقریباً ۱۰ بچوں کا ایک گروپ بیٹھا ہوا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی جواب نہیں دیتا ہے۔ پرتبھا چاک بورڈ پر لکھنے کے بعد پیچھے مڑ کر بچوں کو دیکھتی ہیں اور اپنے ہاتھوں اور سر سے اشارہ کرکے انہیں دوہرانے کے لیے کہتی ہیں، ’’پانچ‘‘۔
پرتھبا چمڑے اور اسٹیل سے بنے اور ربر کے تلوے والے اسٹمپ پروٹیکٹر کے سہارے کھڑی ہیں۔ یہ اسٹمپ پروٹیکٹر ان کے دونوں گھٹنوں پر بندھے ہوئے ہیں۔ ان کی کہنی کے پاس سفید چاک کا ایک ٹکڑا بندھا ہوا ہے۔
’اسکول‘ چل رہا ہے، جو پالگھر ضلع کے کرہے گاؤں میں ہلیم فیملی کے تین کمرے کے سیمنٹ والے گھر میں واقع ہے۔ یہاں، پرتبھا اس سال ۲۰ جولائی سے مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے وکرم گڑھ تعلقہ میں واقع اس گاؤں کے تقریباً ۳۰ آدیواسی بچوں کو انگریزی، تاریخ، مراٹھی اور ریاضی پڑھا رہی ہیں۔ بچے صبح ۱۰ بجے سے دوپہر ۱ بجے کے درمیان گروپ میں آتے ہیں۔ یہ بچے اپنے ساتھ، ۱۳۷۸ لوگوں کی آبادی والے اس گاؤں کے ۲ ضلع پریشد اسکولوں کے ذریعہ دی گئی کتابیں لیکر آتے ہیں۔
’’آپریشن کے بعد سے، ہر چھوٹا کام ختم کرنے میں لمبا وقت لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے لکھنا بھی مشکل ہے،‘‘ پرتبھا کہتی ہیں، جب کہ ایک طالب علم ان کے اوپری بازو پر ویلکرو کی پٹّی کے ساتھ چاک باندھتا ہے۔
پچھلے سال تک، پرتبھا ہلیم، جن کا تعلق وارلی آدیواسی برادری سے ہے، مقامی ضلع پریشد (زیڈ پی) اسکولوں میں ۲۸ برسوں سے پڑھا رہی تھیں۔ ۲۰ سال کی عمر میں شادی ہونے کے بعد، پرتبھا کرہے سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور، بھیونڈی شہر آ گئیں، جہاں ان کے شوہر کام کرتے تھے – ۵۰ سالہ پانڈورنگ ہلیم، ریاستی آبپاشی دفتر میں اب ایک سینئر کلرک ہیں۔ ۲۰۱۵ میں جب ان کا تبادلہ پاس کے تھانے ضلع میں ہوا، تو پرتبھا وہاں سے بھیونڈی پڑھانے آتی تھیں۔
جون ۲۰۱۹ میں، بھیونڈی کے ایک نئے ضلع پریشد اسکول میں کام شروع کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد، پرتبھا کرہے میں اپنی فیملی کے گھر گئیں، جہاں وہ ہر مہینے جاتی تھیں۔ تبھی پرتبھا کی پریشانیاں شروع ہوئیں۔ اس مہینے، ۵۰ سالہ پرتبھا میں گینگرین مرض کی تشخیص ہوئی، یہ حالت جسمانی نسیج کے کام نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ گینگرین عام طور پر کسی پرانے مرض، زخم یا انفیکشن کی وجہ سے خون کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اس کے کچھ دنوں بعد ہی، ان کی کہنی کے نیچے کے دونوں ہاتھ، اور گھٹنے کے نیچے کے دونوں پیر کاٹنے پڑے۔








