چند ماہ قبل شام کو تیزی سے غائب ہوتی روشنی میں، ننھا شکتی ویل اپنے گھر کے باہر مٹی کے فرش پر بیٹھا چوہے کے بچے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ وہ اس کے پیٹ میں دھیرے سے انگلی مارتا، تاکہ وہ دوڑ کر بھاگے، پھر اس کی پونچھ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیتا۔ ایک سال کے شکتی ویل کے لیے یہ چوہا واحد کھلونا تھا۔
یہ بچہ اور اس کے والدین، ۱۹ سالہ آر ونجا اور ۲۲ سالہ آر جانسن، بنگلا میڈو بستی کی ایک کچی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ ’’ہم کھلونے نہیں خریدتے۔ نوزائیدہ بچوں کے لیے [کبھی کبھی] شاید جھنجھنا بھلے ہی خرید لیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے گاؤں میں کسی کے پاس بہت سارے کھلونے ہیں،‘‘ ونجا کہتی ہیں، جو ریاست کے ذریعے چلائے جانے والے منریگا کے مقامات پر کام کرتی ہیں، جب کہ جانسن تعمیراتی مقامات، اینٹ بھٹوں پر کام کرتے ہیں، یا پھر تمل ناڈو کے تیروتانی بلاک میں واقع اپنی پنچایت، چیروکنور کے گاؤوں میں درخت کاٹتے ہیں۔
’’ہمارے بچے پالتو جانوروں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ ہم گھر پر خرگوش، چوہے، گلہری پالتے ہیں۔ زیادہ تر، بچے چوہوں کو رکھنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں تلاش کرنا بھی آسان ہے۔ مجھے خرگوش پسند ہے۔ وہ ملائم ہوتے ہیں، لیکن آپ خرگوش کے بچوں کو اتنی آسانی سے نہیں حاصل کر سکتے،‘‘ ۲۸ سالہ ایس سمتی کہتی ہیں، جو اسی بستی میں پرائمری اسکول کے بچوں کو پڑھاتی ہیں، اور منریگا کے مقامات پر اور اینٹ بھٹوں پر بھی کام کرتی ہیں۔
ریاست کے تیرولور ضلع میں ۳۵ ایرولا آدیواسی کنبوں کی اس بستی میں بچوں کے درمیان، پالتو جانوروں کے طور پر چوہے کے بچے خاص طور سے مقبول ہیں۔ (دیکھیں بنگلا میڈو میں دفن خزانے کی کھدائی)۔ یہ چھوٹے جانور کاٹتے نہیں ہیں اور کسی بھی دیگر پالتو جانوروں کی طرح ہی کنبوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ (ایک سفر کے دوران، میں اس عورت سے ملی، جو اپنے پالتو چوہے کو تار کی ٹوکری میں رکھ کر میٹنگ میں لائی تھی۔)












