جموں و کشمیر کے اونچے پہاڑوں پر آپ کسی بکروال کو شاید ہی کبھی اکیلے دیکھ پائیں۔
یہ لوگ ہمالیہ کے اونچے پہاڑوں میں اپنے مویشیوں کے لیے گھاس کے میدان تلاش کرنے کی خاطر بڑے بڑے گروپوں میں چلتے ہیں۔ محمد لطیف بھی ہر سال ان اونچے چراگاہوں یا بہک کی طرف جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’تین یا چار بھائی اپنی پوری فیملی کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ریوڑ کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے کیوں کہ بھیڑ اور بکریاں اکٹھے چلتی ہیں۔‘‘ ان کا اشارہ تقریباً ۵۰۰۰ بھیڑ، بکریاں، گھوڑے، اور کچھ بکروال کتوں کے ایک ریوڑ کی طرف ہے، جو ہر سال ان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔
بکروال اپنے سفر کی شروعات جموں کے میدانی علاقوں سے کرتے ہیں اور پیر پنجال اور ہمالیہ کے دوسرے پہاڑوں میں واقع چراگاہوں تک جاتے ہیں، اور اس طرح تقریباً ۳۰۰۰ میٹر کی اونچائی تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ گرمیوں کی شروعات ہونے سے تھوڑا پہلے یعنی مارچ کے آخر میں اونچائی کی طرف چلنا شروع کرتے ہیں، اور سردیوں کا موسم شروع ہونے سے پہلے یعنی ستمبر کے آس پاس وہاں سے واپس لوٹنے لگتے ہیں۔
اس دوران انہیں ایک طرف کا سفر طے کرنے میں تقریباً ۸-۶ ہفتوں کا وقت لگ جاتا ہے؛ سب سے آگے عورتیں، بچے، اور کچھ مرد چلتے ہیں۔ محمد لطیف بتاتے ہیں، ’’بڑے چراگاہوں کے پاس وہ ہم سے پہلے پہنچ جاتے ہیں اور ریوڑ کے پہنچنے تک ڈیرہ [کیمپ] تیار رکھتے ہیں۔‘‘ ان کا گروپ راجوری کے قریب ایک جگہ سے اونچائی کی طرف چلنا شروع کرتا ہے اور لداخ کے زوجیلا درّہ کے قریب واقع مینا مارگ تک کا سفر کرتا ہے۔


























