لفظ ’باؤل‘ سنسکرت کے واتُل سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے پاگل، بے ترتیب یا حامل۔ ’باؤل‘ میوزک کے اس کلچر کو بھی کہتے ہیں جس کی ابتدائی بنگال میں ہوئی۔
باؤل کمیونٹی کے لوگ عام طور سے خانہ بدوش ہوتے ہیں۔ باؤل اتحاد پسندانہ مذہب پر عمل کرتے ہیں جو اسلام، ہندو اور بودھ مذہب سے مل کر بنا ہے۔ اور یہ متعدد لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ معاشرے کے روایتی طور طریقوں سے انکار کرتے ہوئے، یہ موسیقی کو متحد کرنے کی طاقت مانتے ہیں۔ ان کے گانے زندگی کے واضح فلسفہ کو بیان کرتے ہیں۔ باؤل پیدائشی طور پر اس برادری کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ انھوں نے اس طریقہ زندگی کو چُنا ہے، اور ایک گرو کے ذریعے اس میں داخل ہوئے ہیں۔
باؤل مرد و عورت، دونوں ہی امتیازی شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے بال بغیر کٹے ہوئے، آپس میں لپٹے یا گھنگھرالے ہوتے ہیں، لباس میں لمبے کرتے یا ساڑی کا رنگ زعفرانی ہوتا ہے۔ گلے میں رودراکش کی مالا ہوتی ہے، اور یہ موسیقی کا ایک ساز، ایکتارہ لے کر چلتے ہیں۔ زبانی طور پر ان تک پہنچنے والی موسیقی، آج تک ان کا واحد ذریعہ معاش ہے، اور انھیں اپنا گانا سنانے کے بعد بطور بھیک جو کچھ ملتا ہے، ان کی زندگی اسی پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ گانے والے کی مقبولیت پر منحصر ہے کہ وہ کتنا کما لیتا ہے، باؤل عام طور سے گانا سنانے کے بعد 200 سے 1000 روپے تک کما سکتے ہیں۔




