ایک اور مطالعہ، جسے ٹی آر آئی (دی اِنرجی اینڈ رِسورسز انسٹی ٹیوٹ) نے ۲۰۱۴ میں کیا تھا، کہتا ہے: ’’۱۹۰۱-۲۰۰۳ کی مدت کے بارش کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی میں مانسون کی بارش کا حصہ [ریاست بھر میں] کم ہو رہا ہے، جب کہ اگست میں بارش بڑھتی جا رہی ہے... اس کے علاوہ، مانسون کے دوران انتہائی بارش کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور سے موسم کے پہلے نصف (جون اور جولائی) کے دوران۔‘‘
یہ مطالعہ، جس کا عنوان ہے، مہاراشٹر کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کی ضرب پذیری اور توافق کی حکمت عملیوں کا تعین: ماحولیاتی تبدیلی کا مہاراشٹر ریاست توافق ایکشن پلان، ودربھ کے لیے اہم ضرب پذیریوں کو اس طرح نمایاں کرتا ہے، ’’لمبے خشک دن، حال ہی میں بارش کی تنوع پذیر میں اضافہ اور [بارش کی] مقدار میں کمی۔‘‘
یہ کہتا ہے کہ بھنڈارا ان ضلعوں کے گروپ میں شامل ہے جہاں انتہائی بارش میں ۱۴ سے ۱۸ فیصد (بیس لائن کے متناسب) اضافہ ہو سکتا ہے، اور مانسون کے دوران خشک دنوں کے بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ مطالعہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناگپور ڈویژن (جہاں بھنڈارا واقع ہے) کے لیے اوسط اضافہ (۲۷ء۱۹ ڈگری کے سالانہ اوسط درجہ حرارت پر) ۱ء۱۸ سے ۱ء۴ ڈگری تک (۲۰۳۰ تک)، ۱ء۹۵ سے ۲ء۲ ڈگری تک (۲۰۵۰ تک) اور ۲ء۸۸ سے ۳ء۱۶ ڈگری تک (۲۰۷۰ تک) ہوگا۔ یہ ریاست کے کسی بھی علاقے کے لیے اعلیٰ ترین ہے۔
بھنڈارا کے زرعی افسروں نے بھی بڑے پیمانے پر بارش پر منحصر اپنے ضلع میں ان ابتدائی تبدیلیوں کو دیکھا ہے جو اپنے روایتی تالابوں، ندیوں اور وافر بارش کے سبب سرکاری لٹریچر اور ضلع کی اسکیموں کو ابھی بھی ایک ’بہتر آبپاشی شدہ‘ علاقے کے طور پر درج فہرست کرتا ہے۔ ’’ہم ضلع میں بارش میں تاخیر کی ایک لگاتار فطرت دیکھ رہے ہیں، جو بوائی اور پیداوار کو نقصان پہنچاتی ہے،‘‘ بھنڈارا کے ڈویژنل زرعی نگرانی افسر، ملند لاڈ کہتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس برسات کے ۶۰-۶۵ دن ہوا کرتے تھے، لیکن گزشتہ ایک دہائی میں، یہ جون-ستمبر کی مدت میں ۴۰-۴۵ تک نیچے آ گئی ہے۔‘‘ بھنڈارا کے کچھ علاقوں – مالیت والے ۲۰ گاؤوں کے گروپ – نے اس سال جون اور جولائی میں بارش کے مشکل سے ۶ یا ۷ دن ہی دیکھے، وہ بتاتے ہیں۔
’’اگر مانسون میں تاخیر ہوئی، تو آپ اچھی کوالٹی والے چاول نہیں اُگا سکتے،‘‘ لاڈ آگے کہتے ہیں۔ ’’دھان کی روپائی میں نرسری کی ۲۱ دنوں کی مدت کے بعد تاخیر ہونے پر پیداوار یومیہ فی ہیکٹیئر ۱۰ کلو کم ہو جاتی ہے۔‘‘
بیجوں کو چھینٹنے کا روایتی طریقہ – پہلے نرسری لگانے پھر پودوں کی روپائی کرنے کے بجائے مٹی میں بیج پھینکنا – ضلع میں تیزی سے لوٹ رہا ہے۔ لیکن روپائی کے طریقے کے برعکس چھینٹائی سے، نُمود کی کم شرح کے سبب اُپج خراب ہو سکتی ہے۔ پھر بھی، اگر پہلی بارشوں کے بغیر پودے نرسری میں نہیں اُگتے ہیں، تو پوری فصل کو کھونے کے بجائے، کسانوں کو چھینٹائی سے صرف جزوی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔