جنوبی کولکاتا کا کثیر ثقافتی مرکز سمجھے جانے والے لیک مارکیٹ میں مینا یادو اپنے گاہکوں کے ساتھ کبھی بھوجپوری میں بات کرتی ہیں، تو کبھی بنگالی اور ہندی میں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ بات چیت کے دوران یا راہگیروں کو پتہ بتاتے وقت بھی وہ ایسا ہی کرتی ہیں۔ بطور مہاجر اپنی روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کو بیان کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’کولکاتا میں، یہ [زبان] کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ آگے کہتی ہیں، ’’یہ صرف کہنے کی بات ہے کہ بہاری لوگ بہار میں رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسمانی طور پر جتنے بھی مشکل کام ہیں، وہ ہم لوگ ہی کرتے ہیں۔ یہاں پر جتنے بھی قلی، بھشتی، اور بھاری سامان ڈھونے والے ہیں، وہ سبھی بہاری ہیں۔ یہ بنگالیوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ آپ نیو مارکیٹ، ہوڑہ، سیالدہ…کہیں بھی چلے جائیں، ہر جگہ بہاری ہی بھاری سامان ڈھوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ لیکن اتنی محنت کرنے کے بعد بھی انہیں کوئی عزت نہیں ملتی۔ بہاری سب کو بابو کہتے ہیں…لیکن انہیں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ آم کا گودا بنگالی بابوؤں کے لیے ہے، اور گٹھلی ہمارے لیے۔‘‘
مینا یادو زبان کے بارے میں بات کرتے کرتے فوراً شناخت کی سیاست پر پہنچ جاتی ہیں۔
وہ مزید کہتی ہیں، ’’چنئی میں ہمیں [بات چیت کرنے میں] پریشانی ہوتی ہے۔ ہندی یا بھوجپوری بولنے پر وہ لوگ جواب نہیں دیتے ہیں۔ وہ اپنی زبان میں بات کرتے ہیں، جو ہمیں سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن یہاں پر ایسا نہیں ہے۔‘‘ بہار کے چھپرہ سے تعلق رکھنے والی ۴۵ سالہ مینا یادو، جو یہاں مکئی بیچتی ہیں، اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں، ’’دیکھئے، بہاری کی کوئی ایک زبان نہیں ہے۔ گھر پر ہم ۴-۳ زبانوں میں بات کرتے ہیں۔ کبھی ہم بھوجپوری بولتے ہیں تو کبھی ہندی، کبھی دربھنگیا (میتھلی) میں بات کرتے ہیں تو کبھی بنگالی میں۔ لیکن ہمیں دربھنگیا بولنے میں سب سے زیادہ آسانی ہوتی ہے۔‘‘
پھر وہ اتنے ہی حیرت انگیز طریقے سے یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’ہم آرہ اور چھپرہ کی بولی بھی بولتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم جس زبان میں بھی بات کرنا چاہیں، آسانی سے کر لیتے ہیں۔‘‘ باوجود اس کے، وہ اپنے آپ کو اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتیں کہ اتنی ساری زبانوں کے علم سے ان کی غیر معمولی مہارت کا کوئی تعلق ہے۔


















