اور اس طرح، اننت پور نے اتوار ۵ اپریل کے دقت طلب کام کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔ اننت پور وزیر اعظم کی اس کال کا جواب کیسے دے گا، جس میں انہوں نے ’ہم پر چھائے تاریک سائے‘ سے نجات دلانے کے لیے رات ۹ بجے، ۹ منٹ کے لیے قندیلیں، لیمپ، موبائل ٹارچ روشن کرنے کو کہا ہے؟ یہاں میرے محلے سنگمیش نگر میں ذرا مشکل پیش آسکتی ہے، کیوں کہ یہاں بآسانی جل جانے والے بانس کے ڈھیر ارد گرد بکھرے پڑے ہیں، اور پانچ یا چھ کنبوں پر ایک بالکونی ہے، جس میں سب کو ایک ہی وقت میں ایک ساتھ کھڑے ہونا ہے۔
میرا اپنا کنبہ ۱۹ مارچ سے خود سے عائد کردہ لاک ڈاؤن میں چلا گیا تھا۔ نتجتاً مجھے یہ دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کے لیے کافی وقت مل گیا کہ شہر کا کم آمدنی والا اور زیادہ تر محنت کش طبقے پر مشتمل حصہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکا ہے۔
میرے پرانے اسکول کے بس ڈرائیور نے ۱۷ مارچ کو مجھے بتایا تھا کہ ’’کورونا وائرس چتور تک پہنچ گیا ہے، لیکن اننت پور تک نہیں پہنچے گا۔ اننت پور کی سخت گرمی میں وائرس زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔‘‘ یہ بچکانہ بیان اننت پور میں وبائی مرض کے تئیں عام لوگوں کے مزاج کا عکاس تھا۔ یہاں وبائی مرض کی سنگینی سے بہت کم لوگ واقف تھے۔ کم از کم اس وقت تو نہیں تھے۔
آندھرا پردیش کے رائل سیما علاقے میں واقع اننت پور ضلع کے صدر مقام، اننت پور شہر کے سنگمیش نگر کی تنگ گلیوں میں بچوں کے گروہ نے دھما چوکڑی مچا رکھی ہے۔ اسکولوں کے بند ہونے اور امتحانات منسوخ ہونے کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں کو ایک نئی توانائی مل گئی ہے۔ سبزی منڈیوں میں لوگوں کا ہجوم اتوار ۲۹ مارچ تک موجود تھا۔ اب چکن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔




