پرہلاد سنگھ ٹِپنیا اور شبنم ویرمانی [جن کا تعلق کبیر پروجیکٹ سے ہے] کبیر کے بھجن گاتے وقت اکتاری بجاتے ہیں۔
اکتاری ساز ملک کے کئی حصوں میں دیکھنے کو ملتا ہے – بھجن گانے والے اور سفر کرنے والے فنکار اسے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ تقریباً ۱۲۰-۱۰۰ سینٹی میٹر لمبی اکتاری کے کئی نام ہیں۔ کرناٹک میں اسے ایکناد کہتے ہیں؛ پنجاب میں تمبی؛ بنگال میں باؤل؛ اور ناگالینڈ میں اسے تاتی کہا جاتا ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اس کا نام ’بُرّا وینا‘ ہے۔ چھتیس گڑھ کے آدیواسی اپنے رقص و موسیقی میں اکتاری استعمال کرتے ہیں۔
اکتاری میں ایک کھوکھلا، چپٹا اور سوکھا ہوا کدو تونبے کا کام کرتا ہے۔ تونبے کے چھوٹے سے منہ پر کھال کا ایک ٹکڑا منڈھ دیا جاتا ہے۔ ایک کھوکھلا ویلو [بانس کی چھڑی] تونبے کے اندر سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے نچلے سرے کو کدو سے باہر نکال کر اس میں ایک تار پھنسا دیا جاتا ہے۔ پھر اس تار کو اوپر رکھی ایک ٹھیکری سے گزار کر ویلو کے دوسرے سرے پر موجود کھونٹی سے کس کر لپیٹ دیا جاتا ہے۔ تار کو شہادت کی انگلی یا بیچ والی انگلی سے کھینچ کر بجایا جاتا ہے۔
اکتاری [ایک تار سے بجنے والا ساز] کا ڈیزائن اور اسے بنانے کا عمل تار والے دوسرے سازوں کے مقابلے بہت آسان ہے۔ کدو، لکڑی، بانس اور تار آسانی سے مل جاتے ہیں۔ کدو کو سب سے عمدہ تونبا (گونج پیدا کرنے والا) مانا جاتا ہے۔ افریقی سازوں میں بھی یہ بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اکتاری پہلے آواز میں سُر پیدا کرتی ہے، اور تال بھی۔ گلوکار اپنی آواز کو سُر کے ساتھ ملا سکتے ہیں اور گیت کی آواز کو رفتار بھی دے سکتے ہیں۔ یہ ایک قدیم اور دیسی ساز ہے۔ شروع میں، تار بھی چمڑے سے ہی بنایا جاتا تھا، جو جانور کی کھال کے اندرونی حصے سے بنی ہوتی تھی۔ کرناٹک میں یلّما کی پوجا میں ابھی بھی چمڑے کے تاروں والی اکتاری ہی بجائی جاتی ہے جسے جُمبروک کہتے ہیں۔ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ پہلے موسیقی تب نکلی تھی، جب چمڑے کی ایک تار چمڑے کی ایک ڈسک سے رگڑ کھانے کے بعد گونجی تھی۔ کاشتکار معاشرہ میں دھات کی ایجاد ہونے کے بعد دھات کے تاروں کا استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے بعد پوری دنیا میں ایسے متعدد آلات موسیقی کا ایجاد ہوا جو ایک تار کی مدد سے بجائے جاتے تھے۔ سڑک پر پرفارم کرنے والے موسیقاروں اور خانہ بدوشوں نے بھی ایسے کئی آلات موسیقی کا ایجاد کی جن کا ان کی طرز زندگی سے براہ راست تعلق تھا۔
ایسا مانا جاتا ہے کہ ہندوستان میں بھکتی تحریک کے دوران سنت شعراء کے ذریعے اکتاری کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا۔ لیکن تاریخی نقطہ نظر سے یہ پوری طرح سچ نہیں ہے۔ کبیر، میرا بائی، اور کچھ صوفی سنتوں کے ذریعے گانے کے وقت اکتاری بجائی جاتی تھی، لیکن مہاراشٹر میں نام دیو سے لے کر تکا رام جیسے بہت سے سنت شاعر تال یا جھانجھ، چِپلی [دھات کے چھلوں کے ساتھ ایک لکڑی کی تالی] اور مردنگ جیسے ساز بجاتے تھے۔ کچھ تصویروں میں سنت وینا بجاتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
مراٹھی وشوکوش [لغت] کہتا ہے، ’’وینا ہندوستانی موسیقی کا ایک قدیم ساز ہے جن میں تار بندھے ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال ویدوں کے منتر کا ورد کرتے وقت سُروں کی گنتی کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔‘‘ حالانکہ، اسے ہم عموماً نام دیو اور تکا رام کی تصویروں میں ان کے ہاتھ میں دیکھتے ہیں، لیکن تکا رام کے ذریعے لکھے گئے کسی بھی ابھنگ میں ہمیں اس کا ذکر نہیں ملتا ہے، جب کہ تال، چپلی اور مردنگ جیسے آلات موسیقی کا ذکر ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ وینا کے ساتھ تکا رام کی تصویریں دراصل ایک برہمن وادی نظریہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔