ٹیمپو مانجھی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ اس گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔
فیملی کا کہنا ہے کہ جہان آباد کورٹ میں معاملہ کی سماعت کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر ان کے گھر سے ضبط سامان کو ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن سامان ان کے گھر سے ہی ضبط ہوا تھا، اس بات کا کوئی پختہ ثبوت نہیں دیا گیا۔
ان کی ۳۵ سالہ بیوی گُنا دیوی کہتی ہیں، ’’ان کو جھوٹا کیس بنا کر پھنسا دیا گیا ہے۔‘‘
ان کے دعوے کو اس حقیقت سے تقویت ملتی ہے کہ معاملہ میں جن پانچ چشم دیدوں کی گواہی پر ٹیمپو مانجھی کو سزا ہوئی، وہ سبھی پولیس والے تھے۔ ٹیمپو کے خلاف شراب بندی اور ایکسائز قانون، ۲۰۱۶ کے تحت درج کیے گئے اس معاملے میں، سماعت کے دوران ایک بھی آزاد گواہ پیش نہیں کیا گیا تھا۔
گُنا دیوی کہتی ہیں، ’’دارو (شراب) گھر کے پیچھے کھیت میں ملی تھی۔ کھیت کس کا ہے، ہم کو نہیں معلوم۔ ہم نے پولیس سے کہا بھی کہ برآمد کی گئی دارو سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘ لیکن، ان کی باتوں کا پولیس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پولیس والوں نے تب ان سے کہا تھا، ’’تورا گھر کے پیچھے [دارو] ہئَو، تَ تورے نہ ہوتئو [تمہارے گھر کے پیچھے شراب ملی ہے، تو تمہاری ہی ہوگی نا]۔‘‘
ٹیمپو مانجھی کو ۲۰۱۹ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے تین سال بعد، ۲۵ مارچ ۲۰۲۲ کو انہیں گھر میں شراب بنانے اور بیچنے کے الزام میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے ۵ سال کی سزا سنا دی گئی اور ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی لگا دیا گیا۔
ٹیمپو مانجھی اور گُنا دیوی اپنے چار بچوں کے ساتھ جہان آباد ضلع کے کیناری گاؤں میں ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں۔ یہ فیملی موسہر برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور گاؤں کی موسہر ٹولی میں رہتی ہے۔ سال ۲۰۱۹ میں، ۲۰ مارچ کی صبح جب ٹیمپو مانجھی کے گھر پر چھاپہ ماری کی گئی تھی، تب وہ گھر پر نہیں تھے۔ وہ فصل ڈھونے والی ایک گاڑی پر مزدور کے طور پر کام کیا کرتے تھے اور صبح سویرے کام پر نکل گئے تھے۔












