لوک گیتوں نے ہمیشہ سے ثقافتی علم کو زندہ رکھنے اور سماجی پیمانوں کو آگے لے جانے کا کام کیا ہے۔ حالانکہ، اکثر ان کی مدد سے ثقافتی تبدیلی کو جنم دینے اور بیداری پھیلانے کا کام بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اس زبانی روایت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر ایک پیشکش کے ساتھ اپنی شکل بدل لیتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس کا مقامی ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔

یہاں پیش کردہ گیت فوک میوزک کی قابل تغیر فطرت کی ہی ایک مثال ہے۔ یہ گیت ہمیں دیہی خواتین کی زندگی کے جنسی حقائق کے بارے میں بتاتا ہے اور بیداری کا پیغام دیتا ہے۔ یہ گیت صرف سماجی تنقید نہ ہو کر ایک جذباتی فریاد بھی ہے، جسے کچّھ اور احمد آباد کی خواتین فنکاروں نے اپنی آواز دی ہے۔

اس گانے میں ایک خاص ساز کا استعمال کیا گیا ہے، جسے جوڑیا پاوا یا الگھوزا کہتے ہیں۔ یہ لکڑی کا ایک ساز ہے، جسے دونوں طرف سے پھونک مار کے بجایا جا سکتا ہے۔ روایتی طور پر پاکستان میں سندھ اور ہندوستان میں کچّھ، راجستھان اور پنجاب جیسے شمال مغربی علاقوں کے فنکار اس ساز کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

کچّھ اور احمد آباد کی فنکاروں کی آواز میں یہ لوک گیت سنیں

કચ્છી

પિતળ તાળા ખોલ્યાસી ભેણ ત્રામેં તાળા ખોલ્યાસી,
બાઈએ જો મન કોય ખોલેં નાંય.(૨)
ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી, ભેણ ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી,
બાઈએ જો મોં કોય નેરે નાંય. (૨)
પિતળ તાળા ખોલ્યાસી ભેણ ત્રામે તાળા ખોલ્યાસી,
બાઈએ જો મન કોય ખોલે નાંય. (૨)

ઘરજો કમ કરયાસી,ખેતીજો કમ કરયાસી,
બાઈએ જે કમ કે કોય લેખે નાંય.
ઘરજો કમ કરયાસી, ખેતીજો કમ કરયાસી
બાઈએ જે કમ કે કોય નેરે નાંય
ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી, ભેણ ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી,
બાઈએ જો મોં કોય નેરે નાંય.

ચુલુ બારયાસી ભેણ,માની પણ ગડયાસી ભેણ,
બાઈએ કે જસ કોય મિલ્યો નાંય. (૨)
ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી ભેણ ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી,
બાઈએ જો મોં કોય નેરે નાંય.  (૨)

સરકાર કાયધા ભનાય ભેણ,કેકે ફાયધો થ્યો ભેણ,
બાઈએ કે જાણ કોઈ થિઈ નાંય (૨)
ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી ભેણ ગોઠ જા ગોઠ ફિરયાસી,
બાઈએ જો મોં કોય નેરે નાંય (૨)

اردو

پیتل کے تالے کھولے؛ تانبے کے تالے کھولے،
لیکن اس کے دل کا دروازہ نہ کھول سکے
اُس کے من کو پڑھ نہ سکے۔ (۲)
گاؤں گاؤں کے گلیارے سے آتے جاتے رہتے ہو،
لیکن اُس کا چہرہ تمہیں دکھائی نہ دیا،
ہر دم ہی گھونگھٹ کے پیچھے چھپا رہا۔ (۲)
پیتل کے تالے کھولے؛ تانبے کے تالے کھولے،
لیکن اس کے دل کا دروازہ نہ کھول سکے
اُس کے من کو پڑھ نہ سکے۔ (۲)

گھر میں ہم کھٹتے ہیں؛ کھیتوں میں ہم جُتتے ہیں
لیکن ہمارا کام کسے نظر آتا ہے؟
گاؤں گاؤں کے گلیارے سے آتے جاتے رہتے ہو،
لیکن اُس کا چہرہ تمہیں دکھائی نہ دیا،
ہر دم ہی گھونگھٹ کے پیچھے چھپا رہا۔

چولہے کی آگ جلائی ہم نے، تمہاری روٹیاں بنائیں ہم نے۔
لیکن کبھی کسی نے عورت کا کیا نہیں شکرانہ۔
کبھی کسی نے اس کی تعریف نہیں کی۔ (۲)
گاؤں گاؤں کے گلیارے سے آتے جاتے رہتے ہو،
لیکن اُس کا چہرہ تمہیں دکھائی نہ دیا،
ہر دم ہی گھونگھٹ کے پیچھے چھپا رہا۔ (۲)

سرکار نئے قانون بنایا کرتی ہے۔
لیکن اس سے بھلا ہوا اس کا، بتاؤ بہن، بھلا ہوا کس کا؟
ہم عورتوں کو تو کوئی نہیں بتاتا۔ (۲)
گاؤں گاؤں کے گلیارے سے آتے جاتے رہتے ہو،
لیکن اس کا چہرہ تمہیں دکھائی نہ دیا،
ہر دم ہی گھونگھٹ کے پیچھے چھپا رہا۔ (۲)

PHOTO • Anushree Ramanathan

گیت کی قسم: ترقی پذیر

موضوع: آزادی اور بیداری کے گیت

گیت: ۸

گیت کا عنوان: پِتّڑ تاڑا کھولیاسی، بھین ترامیں تاڑا کھولیاسی

دُھن: دیول مہتہ

گلوکار: احمد آباد اور کچّھ کی فنکار

استعمال ہونے والے ساز: ہارمونیم، ڈرم، ڈفلی، جوڑیا پاوا (الگھوزا)

ریکارڈنگ کا سال: ۱۹۹۸، کے ایم وی ایس اسٹوڈیو

کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن ’سُر وانی‘ نے ایسے ۳۴۱ گیتوں کو ریکارڈ کیا ہے، جو کچھّ مہیلا وکاس سنگٹھن (کے ایم وی ایس) کے توسط سے پاری کے پاس آیا ہے۔

پریتی سونی، کے ایم وی ایس کی سکریٹری ارونا ڈھولکیا اور کے ایم وی ایس کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر امد سمیجا کا ان کے تعاون کے لیے خاص شکریہ۔ اصل گیت سے ترجمہ میں مدد کے لیے بھارتی بین گور کا تہ دل سے شکریہ۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Pratishtha Pandya

பிரதிஷ்தா பாண்டியா பாரியின் மூத்த ஆசிரியர் ஆவார். இலக்கிய எழுத்துப் பிரிவுக்கு அவர் தலைமை தாங்குகிறார். பாரிபாஷா குழுவில் இருக்கும் அவர், குஜராத்தி மொழிபெயர்ப்பாளராக இருக்கிறார். கவிதை புத்தகம் பிரசுரித்திருக்கும் பிரதிஷ்தா குஜராத்தி மற்றும் ஆங்கில மொழிகளில் பணியாற்றுகிறார்.

Other stories by Pratishtha Pandya
Illustration : Anushree Ramanathan

Anushree Ramanathan is a Class 9 student of Delhi Public School (North), Bangalore. She loves singing, dancing and illustrating PARI stories.

Other stories by Anushree Ramanathan
Translator : Qamar Siddique

கமார் சித்திக்கி, பாரியில் உருது மொழிபெயர்ப்பு ஆசிரியராக இருக்கிறார். அவர் தில்லியை சார்ந்த பத்திரிகையாளர் ஆவார்.

Other stories by Qamar Siddique