’’چٹنی، چٹنی فرائی!‘‘
یہ سرخ چیونٹیاں ہیں، جن سے اروناچل پردیش میں پٹکائی پہاڑوں کے دامن میں واقع کنوباڑی میں لذید چٹنی بنائی جاتی ہے۔ پتوں کے پلیٹوں پر رکھی مٹھی بھر چمکدار سرخ چیونٹیاں اس ہفتہ واری بازار میں جولائی کی اس بھیگتی بارش والی صبح میں ۲۰ روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔
کنوباڑی کے رہائشی پوبن کرمی بتاتے ہیں، ’’یہاں کئی قسم کی چیونٹیاں ملتی ہیں۔ املوئی [سرخ چیونٹیوں] کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے کیونکہ انہیں کالی چیونٹیوں کے مقابلے میں پکڑنا زیادہ آسان ہے۔ ان کے کاٹنے سے زیادہ تکلیف بھی نہیں ہوتی ہے اور یہ آم اور کٹہل کے درختوں پر آسانی سے مل جاتی ہیں۔‘‘ اروناچل پردیش، اوئیکوفیلا سمرگڈینا کا گھر ہے؛ اسے ایشین ویور اینٹ (ایشیائی بُنکر چیونٹی) بھی کہا جاتا ہے۔
دس سالہ نین شیلا اور نو سالہ سیم، مہابودھی اسکول کے طالب علم ہیں جہاں میں چند ہفتوں سے پڑھا رہا ہوں؛ یہ دونوں مجھے چیونٹیوں کو پکڑنے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ ’’درخت کی شاخ پر چیونٹیوں کے گھونسلے کی شناخت کرنے کے بعد، اسے کاٹ کر کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر ان مردہ چیونٹیوں کو پتوں اور مٹی سے الگ کر کے خشک کیا جاتا ہے۔‘‘ اس کے بعد انہیں چٹنی بنانے کے لیے تلا جا سکتا ہے، میرے طلباء نے مجھے بتایا کہ اس کا ذائقہ تھوڑا کھٹا ہوتا ہے۔
یہ اروناچل پردیش کے لانگڈنگ ضلع کے کنوباڑی بلاک میں جمعرات کے دن لگنے والا ہفتہ واری بازار ہے۔ کنوباڑی کے رہائشیوں کے لیے دوسرا سب سے بڑا بازار ۷۰ کلومیٹر دور ہے، اس لیے مقامی لوگ اسی بازار کو اپنی روزمرہ کی ضروریات کی خریداری کے لیے ترجیح دیتے ہیں۔ آسام کی سرحد یہاں سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلہ پر واقع ہے، اس لیے پڑوسی ریاست کے باشندے بھی اپنے سامان کی خرید و فروخت کے لیے یہاں آتے ہیں۔











