مایا پرجاپتی اینٹوں کی ایک خستہ حال جھونپڑی کے باہر چارپائی پر بیٹھی ہیں۔ وہ پورے دن مٹی کے مجسمے بنانے کے بعد تھوڑا آرام کر رہی ہیں۔
وہ کمرے کے اندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتی ہیں، ’’یہ سب میں نے ہی بنایا ہے۔‘‘ مدھم روشنی والے کمرے کے کونے میں مختلف سائز کے سینکڑوں دیئے اور مٹی کے برتن رکھے ہوئے ہیں جبکہ فرش پر گڑیا اور مجسمے یونہی بکھرے ہوئے ہیں۔
مایا، جن کی عمر تقریباً چالیس برس ہے، بتاتی ہیں، ’’یہ سب دیوالی کی تیاری کے لیے ہے۔ ہم اس تہوار کے موقع پر زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے سال بھر سخت محنت کرتے ہیں۔‘‘
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے مضافات میں واقع چنہٹ کے اس کمہاروں کے محلہ میں، مایا اس علاقے کی چند ہنرمند خواتین کارکنوں میں سے ایک ہیں۔ ’’یہاں مٹی کے برتن بنانا بنیادی طور پر مردوں کا ذریعہ معاش ہے۔ خواتین اس میں مدد کرتی ہیں، کیونکہ انہیں گھر کے دوسرے کام بھی کرنے پڑتے ہیں۔ میرے ساتھ بہرحال معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔‘‘










