منالار ندی کی وہ جگہ جہاں ہمیں پیچھے لوٹنے کا مشورہ دیا گیا، جب تک کہ ہاتھی سے نمٹ نہ لیا جائے، ہم اسی جگہ پر واپس لوٹ جائیں۔ ہم نے اس پر دھیان ہی نہیں دیا تھا کہ اس پر یہ عجیب سا پل ہے، جو شاید استعمال میں ہے اور جو بانسوں، درخت کے شاخوں، بیلدار پودوں، رسیوں اور لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے بنا ہوا ہے۔ تاہم، ہمیں مشورہ دیا گیا کہ اس پل کا استعمال صرف مانسون کے موسم میں ہوتا ہے اور فی الحال یہ ٹوٹا ہوا ہے
ہم نے تقریباً ایک گھنٹہ آدم قد گھاسوں اور متعدد درختوں والے میدان میں گزارا۔ وہ بھی ایک نر ہاتھی کے ساتھ، جسے ہم دیکھ نہیں سکے تھے۔ یعنی، گھومنے پھرنے والے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ہمارا قافلہ، جو کیرلہ کی دورافتارہ پنچایت، ایڈمالاکوڈی کے دورہ پر گئی تھی، کچھ بھی دیکھ نہیں سکتا تھا۔ حالانکہ باقی تمام لوگ اس کی حرکتوں کو محسوس کر رہے تھے۔ ہم صرف گاؤں والوں کی ’آنی‘ (ہاتھی) کی چیخ سن پا رہے تھے، اس ہاتھی کے بارے میں جو ہماری آنکھوں سے اوجھل تھا۔ آس پاس کی بستیوں کے لوگوں نے بلند آواز میں چیخ کر تمام لوگوں کو آگاہ کیا کہ کوئی بھی پانی کے قریب نہ جائے۔ سوسائٹی کوڈی، جہاں سے ہم ابھی واپس آر ہے تھے، کی جانب گامزن آدیواسیوں نے ہم سے کہا: ’’وہ ندی کے پاس آ چکا ہے۔ دھیان سے۔‘‘
یہ ہمارے لیے پریشانی کا سبب تھا، کیوں کہ ہم اس وقت منالار ندی کو پار کرنے جا رہے تھے۔ ہم پاس کے کھیت میں واپس لوٹ گئے۔ آوازوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ہمارے ’جنگل میں راستہ دکھانے والے‘ ساتھی اچوتھن ایم، جو خود ایک موتھاوَن آدیواسی ہیں، واضح طور پر اس بات سے باخبر تھے کہ وہ موٹی کھال والا ہاتھی کہاں ہے۔ اور وہ لوگ جو شاید کچھ دوری پر درخت کے اوپر بنے ’مچان‘ پر بیٹھ کر ہاتھی کو دیکھ رہے تھے، جن مچانوں کو پچھلے روز ہم نے پار کیا تھا۔ شاید وہیں بیٹھ کر انھوں نے دیکھا تھا کہ ہاتھی کس راستہ سے وہاں پہنچا۔ اکیلے نر ہاتھی کی موجودگی ہمارے لیے بری خبر تھی۔ ممکن تھا کہ وہ جوانی کے نشہ میں ہو اور جھُنڈ نے اسے کھدیڑ دیا ہو۔




