’’میں اپنے دونوں ہاتھوں میں پانا کے ساتھ ہی مروں گا،‘‘ شمس الدین مُلّا کہتے ہیں۔ ’’موت ہی میرا ریٹائرمنٹ ہوگا!‘‘
یہ ڈرامائی لگ سکتا ہے، لیکن شمس الدین نے واقعی میں ۷۰ سے زیادہ برسوں تک پانا اور دیگر آلات کے ساتھ کام کیا ہے۔ تمام قسم کے انجنوں کی مرمت کے لیے ان کا استعمال کیا ہے – پانی کے پمپ، بورویل کے پمپ، کانکنی کا چھوٹا اوزار، ڈیزل انجن اور دیگر کئی۔
ان سبھی خرابیوں یا کھیتی کی مردہ مشینری کو درست کرنے کی ان کی مہارت کے سبب کرناٹک کے بیلگام اور مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع کے گاؤوں میں ان کی کافی مانگ ہے۔ ’’لوگ صرف مجھے فون کرتے ہیں،‘‘ وہ تھوڑا فخر سے کہتے ہیں۔
کسان اور دیگر گراہک شمس الدین کے پاس، ان کی انوکھی تکنیک سے مشین کی خرابی کو درست کرانے آتے ہیں۔ ’’میں بس آپریٹر سے ہینڈل کو گھمانے کے لیے کہتا ہوں، اور پھر اسی سے میں انجن کی خرابی کو پہچان کر سکتا ہوں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
اس کے بعد اصلی کام شروع ہوتا ہے۔ خراب انجن کو ٹھیک کرنے میں انھیں آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔ ’’اس میں کھولنے سے لے کر اسے دوبارہ جوڑنے تک کا وقت شامل ہے،‘‘ شمس الدین کہتے ہیں۔ ’’آج، [انجن] کٹ ریڈی میڈ سامانوں کے ساتھ آتے ہیں، اس لیے انھیں ٹھیک کرنا آسان ہو گیا ہے۔‘‘
لیکن بے شمار گھنٹے کی مشق ان کے آٹھ گھنٹے کے اوسط کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اب ۸۳ سال کے ہو چکے شمس الدین کا اندازہ ہے کہ انھوں نے ۷۳ برسوں میں ۵ ہزار سے زیادہ انجنوں کی مرمت کی ہے – ندی سے پانی کھینچنے میں استعمال ہونے والے انجن، مونگ پھلی اور تلہن سے تیل نکالنے والے، تعمیراتی مقامات اور کنووں سے پتھر ہٹانے والے، اور مختلف دیگر چیزوں میں استعمال ہونے والے انجن۔







