بھوری کلّو، جنوب مشرقی اترپردیش کے چترکوٹ ضلع کے بھرکُرّا گاؤں میں اکیلی رہتی ہیں۔ ان کا گھر، آنگن اور چولہا، سبھی خالص مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں صرف ایک استثنیٰ ہے، ایک تین دیواری اینٹ کا ڈھانچہ جس کے اوپر کوئی چھت نہیں ہے، جس کے بارے میں مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ ایک نامکمل ٹوائلیٹ ہے۔
وہ مٹی کے ایک چولہے کو کھولتی ہیں – بنیادی طور پر یہ ایک گڑھا ہے جس میں کئی سوراخ ہیں۔ یہی ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے، جسے پورے احتیاط کے ساتھ بورے سے کاٹ کر تیار کی گئی پلاسٹک کی کئی تہوں سے ڈھانپا گیا ہے۔ ’’میں یہاں پر مٹر اور گیہوں بھونتی ہوں، لیکن وہ بھی زیادہ تر شادیوں کے موسم میں۔
باقی دنوں میں، مجھے حکومت کی طرف سے پنشن کے طور پر سالانہ ۱۸۰۰ روپے ملتے ہیں۔ مجھے اسی سے کام چلانا پڑتا ہے۔‘‘
شادیوں کے موسم میں، بھوری اس چولہے کا استعمال گیہوں اور مٹر بھوننے کے لیے کرتی ہیں۔ ان کی آمدنی کا واحد دوسرا ذریعہ حکومت کی طرف سے انھیں ماہانہ ملنے والی ۱۵۰ روپے کی پنشن ہے
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کھیتی کرنے یا بٹائی پر دینے کے لیے کوئی زمین ہے۔ وہ اپنا سر ہلاتی ہیں، ’’میرے پاس دو بیگھہ کھیت تھے، لیکن یہ بہت پہلے کی بات ہے۔ اپنے بچے کی دوا خریدنے کے لیے میں نے اسے بیچ دیا۔‘‘ اب ان کا بالغ بیٹا سونی پت، ہریانہ میں کام کرتا ہے۔ ان کے شوہر کی موت تقریباً دس سال پہلے ہو گئی تھی۔




