یہ درخت ان کے دادا نے لگایا تھا۔ ’’عمر میں یہ مجھ سے بڑا ہے،‘‘ اس کے سایہ میں بیٹھے مہادیو کامبلے کہتے ہیں۔ اور یہ واحد درخت ہے جو اب ان کے دو ایکڑ کے بنجر آمرائی (آم کے باغ) پر کھڑا ہے۔
یہ اکیلا درخت بتا رہا ہے کہ موکاسا گاؤں میں کامبلے اور دیگر لوگ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ۱۱ اپریل کو وہ مشرقی مہاراشٹر کے چندرپور ضلع سے چار بار لوک سبھا کے رکن اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد سرکار میں امورِ داخلہ کے ریاستی وزیر ہنس رام اہیر کو ووٹ نہیں دیں گے۔
کامبلے کے باغ میں دیگر سبھی درختوں کو اس وقت کاٹ دیا گیا تھا، جب ان کی زمین کوئلہ کان کے لیے تحویل میں لی گئی تھی۔ اس پروجیکٹ نے، جو کہ پچھلی ایک دہائی میں اس علاقہ میں شروع کیے جانے والے مختلف پروجیکٹوں میں سے ایک ہے، ساری زمین اور اثاثہ، ساتھ ہی ذریعہ معاش کو اپنے قبضے میں لے کر بارنج موکاسا (مردم شماری میں بارنگ موکاسا کے طور پر فہرست بند) کو تباہ کر دیا ہے۔
اور اس نے گاؤں کے تقریباً ۱۸۰۰ باشندوں کو غیر یقینی کی حالت میں چھوڑ دیا ہے – حالانکہ بارنج موکاسا کو تو اس پروجیکٹ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا تھا، لیکن یہاں کے لوگوں کی بازآبادکاری نہیں کی گئی ہے۔












