ہیرال لال اپنا گیس سیلنڈر اٹھانے کے لیے بھاگے۔ دہلی کے راج گھاٹ کے قریب بیلا اسٹیٹ میں رہنے والے ۴۰ سال کے ہیرال لال اپنے گھر کا سامان بچانے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، کیوں کہ شام ہوتے ہی کالے رنگ کا پانی بڑی تیزی سے ان کے گھر میں گھسنے لگا تھا۔
وہ ۱۲ جولائی، ۲۰۲۳ کی رات تھی۔ کچھ دنوں کی بھاری بارش کے بعد یمنا ندی کے پانی کی سطح بڑھنے لگی تھی، اور دہلی میں اس ندی کے کنارے رہنے والے ہیرا لال جیسے لوگوں کے پاس وقت باکل بھی نہیں بچا تھا۔
میور وہار کے یمنا پشتہ علاقے میں رہنے والی ۶۰ سال کی چمیلی (جو گیتا کے نام سے مشہور ہیں) اپنے پڑوسی کی ایک سال کی چھوٹی بچی، رِنکی کو بچانے کے لیے دوڑیں۔ تب تک پورے علاقے میں کافی افراتفری مچ چکی تھی، کوئی اپنی بکریوں کو لے کر بھاگ رہا تھا تو کوئی کتے کو کندھے پر اٹھا کر وہاں سے کسی محفوظ جگہ جانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ اس دوران نہ جانے کتنے مویشی اپنی جان بچانے میں ناکام رہے۔ اس سے پہلے کہ تیزی سے بڑھتا ہوا سیلاب کا پانی سارے سامان بہا لے جاتا، وہاں کے لوگ اپنے برتنوں اور کپڑوں کو اکٹھا کرکے نکل جانے کی پوری کوشش میں لگے ہوئے تھے۔
’’صبح تک، وہاں چاروں طرف پانی ہی پانی تھا۔ ہمیں بچانے کے لیے کوئی کشتی نہیں تھی۔ لوگ سوکھی زمین کی تلاش میں فلائی اوور کی طرف بھاگے،‘‘ بیلا اسٹیٹ میں ہیرال لال کی پڑوسن، ۵۵ سالہ شانتی دیوی نے بتایا۔ ’’ہم نے سب سے پہلے اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کی؛ گندے پانی میں سانپ اور دیگر جانور ہو سکتے تھے جو اندھیرے میں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔‘‘
وہ لاچاری سے اپنے بچوں کی اسکولی کتابیں اور کھانے کا راشن بہتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔ ’’ہمارا ۲۵ کلو گندم برباد ہو گیا، کپڑے بہہ گئے…‘‘
کچھ ہفتوں کے بعد، سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہوئے اور اب گیتا کالونی فلائی اوور کے نیچے اپنے عارضی گھروں میں رہ رہے ان لوگوں نے پاری سے بات کی۔ ’’پرشاسن (انتظامیہ) نے سمے (وقت) سے پہلے جگہ خالی کرنے کی چیتاونی (خبر) نہیں دی۔ کپڑے پہلے سے باندھ کے رکھے تھے، گود میں اٹھا اٹھا کر بکریاں نکالیں…ہم نے ناؤ (کشتی) بھی مانگی جانوروں کو بچانے کے لیے، پر کچھ نہیں ملا،‘‘ ہیرا لال نے اگست کے شروع میں بتایا۔