انجن گاؤں کے پاس ایک مقدس پہاڑی، زعفرانی اور سفید پرچم سے بھری ہوئی ہے۔ سفید پرچم قدرت (نیچر) کی پوجا کرنے والے سرنا آدیواسی برادریوں کے ہیں۔ یہ جھارکھنڈ کے گملا ضلع کے اوراؤں آدیواسیوں کے پرچم ہیں۔ زعفرانی پرچم ان ہندوؤں کے ہیں جنہوں نے ۱۹۸۵ میں پہاڑی کی چوٹی پر ایک ہنومان مندر بنوایا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہندو بھگوان ہنومان کی جائے پیدائش ہے۔
بانس کے گیٹ پر لگے دو بڑے بینر عقیدت مندوں کا استقبال کرتے ہیں۔ ان پر دو کمیٹیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ محکمہ جنگلات اور انجن گاؤں کے لوگوں کے ذریعے مشترکہ طور پر چلائی جانے والی فاریسٹ مینجمنٹ کمیٹی (سنیُکت گرام ون پربندھن سمیتی)۔ یہ مشترکہ طور پر ۲۰۱۶ سے تیرتھ استھل (پوجا کی جگہ) اور پارکنگ کا انتظام سنبھالتی ہے۔ سال ۲۰۱۹ میں قائم کی گئی ہندوستانیوں کی کمیٹی ’’انجن دھام مندر وکاس سمیتی‘‘ مندر کا انتظام دیکھتی ہے۔
استقبالیہ دروازے کے ٹھیک اندر ہمارے سامنے دو سیڑھیاں ہیں، جو اوپر کی طرف جاتی ہیں۔ دونوں پوجا کے الگ الگ مقامات کی طرف جاتی ہیں۔ ایک آپ کو سیدھے پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہنومان مندر کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسری سیڑھی دو غاروں کی طرف لے جاتی ہے، جن میں آدیواسی پاہن ہندو مندر کے وجود میں آنے سے پہلے سے ہی پوجا کرتے آ رہے ہیں۔
دو الگ الگ پوجا کے مقامات کے قریب، الگ الگ ڈونیشن باکس، دو الگ الگ دیوتاؤں کے خدمت گاروں کے ذریعے الگ الگ مقاصد کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ایک غار کے سامنے، ایک مندر کے اندر۔ تیسرا ڈونیشن باکس آنگن میں ہے، جو بجرنگ دل کا ہے۔ اس ڈونیشن باکس کے پیسے کا استعمال منگل کے بھنڈارے کے لیے کیا جاتا ہے، جس میں عقیدت مند سادھوؤں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اور انجن گاؤں کے پاس، پہاڑی کے دامن میں ایک اور ڈونیشن باکس ہے، جس میں جمع ہوئی رقم سے گاؤں کے آدیواسیوں کو پوجا کا سامان یا پرساد خریدنے میں مدد ملتی ہے۔
’’یہ پوری طرح سے آدیواسی علاقہ ہے۔ انجن گاؤں میں پہلے کوئی پنڈت نہیں تھا۔‘‘ گاؤں کے سابق پردھان، رنجے اوراؤں (۴۲ سالہ) اس مذہبی مقام میں پوجا کے انتظام کے بارے میں مجھے بتا رہے ہیں۔ ’’حال ہی میں بنارس سے پنڈت اس علاقے میں آئے ہیں۔ یہاں کے اوراؤں آدیواسی برسوں سے قدرت کی دیوی انجنی کی پوجا کرتے آ رہے ہیں، لیکن ہم کبھی نہیں جانتے تھے کہ انجنی کا تعلق ہنومان سے تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
رنجے کے مطابق، ’’پنڈت آئے اور انہوں نے یہ کہانی پھیلانی شروع کر دی کہ انجنی دراصل ہنومان کی ماں تھی۔ انجن کو ہنومان کی مقدس جائے پیدائش قرار دیا گیا اور اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، پہاڑی کے ٹھیک اوپر ایک ہنومان مندر بن گیا۔ اور اس جگہ کو انجن دھام قرار دے دیا گیا۔‘‘










