کجری کے ۵۶ سالہ والد دھیریندر سنگھ کہتے ہیں، ’’پہلے میں صرف اداس تھا، اب میں مکمل طور پر مایوس اور نا امید ہو چکا ہوں۔‘‘ وہ لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ کالج میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں اور کرایے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کی بیوی اور دو بیٹیاں، بشمول کجری، اتر پردیش کے ہردوئی ضلع میں واقع اپنے گھر میں رہتی ہیں۔
دھیریندر بتاتے ہیں، ’’میں نے تقریباً ۱۵سال تک لکھنؤ میں مختلف کمپنیوں یا کالجوں میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کیا ہے۔ لیکن ۲۰۲۱ کے بعد سے کسی ایک مقام پر اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ مجھے کجری کے پولیس بیانات، اس کے ٹیسٹ وغیرہ کے لیے کئی دنوں کی چھٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب میں زیادہ چھٹی مانگتا ہوں تو مجھے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے اور مجھے دوبارہ نئی نوکری تلاش کرنی پڑتی ہے۔‘‘
دھیریندر کی آمدنی ۹۰۰۰ روپے ہے، جو ان کے کنبے کے اخراجات کے لیے ناکافی ہے۔ ’’ایسے میں جب کہیں کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہو، تو کجری کی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر اور سفر پر اپنی معمولی کمائی کی رقم خرچ کر کے میں بار بار اس کو لکھنؤ نہیں لا سکتا۔‘‘
دھیریندر بتاتے ہیں کہ کجری کے واپس آنے کے بعد ساڑھے تین سالوں میں انصاف کے لیے ان کی کوششیں بہت کم بارآور ثابت ہوئی ہیں۔ قانونی امداد کے دفتر، موہن لال گنج تھانے اور لکھنؤ کے قیصر باغ کی ضلعی عدالت کے کئی چکر لگانے کے بعد بھی کجری کا بیان ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ ۱۶۴ کے مطابق مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ نہیں کیا جا سکا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ ’’عدالت ۲۰۲۰ میں درج پولیس ایف آئی آر طلب کر رہی ہے،‘‘ جب کجری کو بچایا گیا تھا۔
اس معاملے میں جو واحد ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی وہ کجری کی گمشدگی کے دو دن بعد دھیریندر نے دسمبر ۲۰۱۰ میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات ۳۶۳ اور ۳۶۴ کے تحت اغوا کے الزامات عائد کرتے ہوئے درج کرائی تھی۔ یہ ایک پھٹی پرانی دستخطی دستاویز ہے، جس کی سیاہی مٹنے لگی ہے، اور ۱۴ سال بعد اس کے اندراجات کو پڑھنا مشکل ہوگیا ہے۔ پولیس کے پاس ۲۰۱۰ کی اس ایف آئی آر کی کوئی کاپی (ڈیجیٹل یا مرئی) نہیں ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۰ میں کجری کو بچانے کے بعد سامنے آنے والے حقائق کے ساتھ فالو اپ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے اس ایف آئی آر کی ضرورت ہے۔
دوسرے لفظوں میں کہیں تو عدالت کو ۲۰۲۰ کی جس ایف آئی آر کی ضرورت ہے، اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور اس لیے کجری کا معاملہ عدالتی نظام میں بھی نہیں پہنچا ہے۔