آلودہ پانی سے بدحال لوگوں کو حکومت کے ذریعہ نظر انداز کیے جانے کے خلاف پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے سینکڑوں لوگوں نے ۲۴ اگست، ۲۰۲۴ کو لدھیانہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ’کالے پانی دا مورچہ‘ (آبی آلودگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ) کے بینر تلے، اس مظاہرہ میں ستلج کے کنارے کے علاقوں میں متاثر لوگ شامل تھے۔
’اب بڈھے نالے کو بخش دو، ستلج کو سانس لینے دو۔‘
بڈھا نالہ میں آلودگی کے خلاف احتجاج نیا نہیں ہے اور نہ ہی اس کی صفائی کے لیے چلائے جانے والے منصوبے۔ یہ دونوں چیزیں گزشتہ تین دہائیوں سے چلتی آ رہی ہیں، لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ پہلا منصوبہ – ستلج کی صفائی کے لیے ایکشن پلان – ۱۹۹۶ میں شروع کیا گیا تھا۔ جمال پور، بھٹیاں اور بلّوکے گاؤوں میں تین سیویج مشینیں (ایس ٹی پی) لگائی گئی تھیں۔
سال ۲۰۲۰ میں، حکومت پنجاب نے بڈھا نالہ کے لیے ۶۵۰ کروڑ روپے کا دو سالہ باز احیا منصوبہ شروع کیا تھا۔ وزیر اعلی بھگونت مان نے پچھلی سرکار پر الزام لگاتے ہوئے، جمال پور میں ریاست کے سب سے بڑے ایس ٹی پی اور بڈھا نالہ کے احیا کے لیے ۳۱۵ کروڑ روپے کے دیگر منصوبوں کا آغاز کیا۔
سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری ہے۔ کشمیرہ کہتی ہیں کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لدھیانہ میں سماجی کارکن حکومت پنجاب کے سامنے بار بار اس مسئلہ کو اٹھاتے رہے ہیں، لیکن کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی نالہ آلودہ ہی ہے، جس سے لوگوں کو بار بار سڑکوں پر اترنا پڑتا ہے۔
مَلکیت کور (۶۰)، مانسا ضلع کے احمد پور سے اس احتجاجی مظاہرہ میں شامل ہونے آئی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’صنعتوں کے ذریعہ نالے میں جانے والے آلودہ پانی سے ہمیں کئی قسم کی بیماریاں ہو رہی ہیں۔ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور ہمیں صاف پانی ملنا ہی چاہیے۔‘‘