فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے سندیپ یادو کہتے ہیں، ’’گھر پر رکھے رکھے کپاس کا رنگ اڑتا جا رہا ہے اور اس کا وزن کم ہو رہا ہے۔ کپاس کا رنگ جتنا ہلکا ہوگا، تاجر ہمیں اتنی ہی کم قیمت دیں گے۔‘‘ مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع کی گوگاواں تحصیل کے کسان سندیپ اکتوبر ۲۰۲۲ میں کپاس کی چُنائی ہو جانے کے بعد اس کی قیمت بڑھنے کا انتظار کر رہے تھے۔
کھرگون ضلع میں ۲ لاکھ ۱۵ ہزار ہیکٹیئر کے رقبہ پر کپاس کی کھیتی ہوتی ہے، اور یہ مدھیہ پردیش کے سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والے ضلعوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ہر سال مئی میں کپاس کی بوائی شروع ہو جاتی ہے، جو جولائی کے پہلے ہفتہ تک چلتی ہے۔ اس کے بعد، اکتوبر سے دسمبر کے دوسرے ہفتہ تک کپاس چُنی جاتی ہے۔ کھرگون کی کپاس منڈی میں روزانہ تقریباً ۶ کروڑ روپے کی کپاس خریدی جاتی ہے، اور یہ خریداری عام طور پر اکتوبر میں شروع ہوتی ہے اور اگلے سال مئی تک چلتی ہے۔ سندیپ بھی مدھیہ پردیش کے بہرام پورہ گاؤں میں اپنے ۱۸ ایکڑ کے کھیت میں سے ۱۰ ایکڑ پر کپاس کی کھیتی کرتے ہیں۔
اکتوبر ۲۰۲۲ میں، سندیپ کے گھر میں تقریباً ۳۰ کوئنٹل کپاس چُنائی کے بعد رکھی ہوئی تھی۔ ان کے کھیت میں حالیہ سیزن میں پہلی بار کپاس کی چُنائی ہوئی تھی۔ تب ان کا اندازہ تھا کہ دوسری بار کی چُنائی میں کپاس کی تقریباً اتنی ہی پیداوار انہیں حاصل ہوگی – جو بعد میں ۲۶ کوئنٹل کے قریب نکلی۔
حالانکہ، وہ چاہ کر بھی اپنی ۳۰ کوئنٹل کی پیداوار کو بیچنے کے لیے کھرگون کی کپاس منڈی نہیں لے جا سکتے تھے، کیوں کہ مدھیہ پردیش کی سبھی کپاس منڈیاں ۱۱ اکتوبر، ۲۰۲۲ سے تاجروں کی ہڑتال کی وجہ سے بند پڑی تھیں۔ یہ تاجر دراصل، منڈی ٹیکس کو کم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان سے ہر ۱۰۰ روپے کی خرید پر بطور ٹیکس ایک روپیہ ۷۰ پیسے وصول کیے جاتے ہیں، جو ملک کی زیادہ تر ریاستوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔ اسی کو کم کروانے کے لیے شروع ہوئی کپاس تاجروں کی ہڑتال آٹھ دن تک چلتی رہی۔
ہڑتال شروع ہونے سے ایک دن پہلے، یعنی ۱۰ اکتوبر کو کھرگون کی کپاس منڈی میں یہ کپاس ۸۷۴۰ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے فروخت ہو رہی تھی۔ ہڑتال ختم ہونے کے بعد، کپاس کی قیمت ۸۹۰ روپے گر گئی اور ۷۸۵۰ روپے فی کوئنٹل پر پہنچ گئی۔ جب ۱۹ اکتوبر کو منڈیاں دوبارہ کھلیں، تو سندیپ یادو نے قیمت گرنے کی وجہ سے اپنی پیداوار نہیں بیچی۔ اکتوبر ۲۰۲۲ میں پاری سے بات کرتے ہوئے تقریباً ۳۴ سالہ ایک کسان نے بتایا، ’’اگر میں فصل کو ابھی بیچوں، تو کوئی منافع نہیں ہوگا۔‘‘








