’’خواہ کولکاتا ہو، جے پور ہو، دہلی ہو یا بمبئی، ہر جگہ بانس سے بنی پولو کی گیندیں براہ راست دیولپور سے جاتی تھیں،‘‘ رنجیت مل ہندوستان کے ان شہروں کے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں جہاں پولو کھیلا جاتا تھا۔
مغربی بنگال کے مردم شماری شہر دیولپور میں پولو کی گیند بنانے والے دستکار ۷۱ سالہ رنجیت نے تقریباً ۴۰ سالوں تک گُوادُوا بانس کی جڑوں (ریزوم) سے گیند سازی کی ہے۔ بانس کی جڑوں کو مقامی طور پر بانسیر گوڑھا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ریزوم بانس کے تنے کا زمین کے اندر کا حصہ ہوتا ہے، جو اس کی نشوونما میں مددگار ہوتا ہے۔ آج رنجیت اس ہنر کے آخری دستکار ہیں، جو ان کے مطابق تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
جدید پولو ۱۶۰ سالوں سے زیادہ عرصے سے کھیلا جا رہا ہے۔ ابتدائی دور میں فوجیں، شاہی خاندان کے لوگ اور طبقہ اشرافیہ یہ کھیل کھیلا کرتا تھا، لیکن بانس کی گیندیں دیولپور سے ہی آتی تھیں۔ درحقیقت دنیا کے پہلے پولو کلب کا قیام ۱۸۵۹ میں سلچر (آسام) میں عمل میں آیا تھا۔ دوسرا کلب ۱۸۶۳ میں کلکتہ میں وجود میں آیا تھا۔ جدید پولو ساگول کانگجیئی (منی پور میں میَتیئی کمیونٹی کا ایک روایتی کھیل) کا ایک ورژن ہے، اور یہ میَتیئی ہی تھے جنہوں اس کھیل میں بانس کی جڑوں کی گیندوں کو متعارف کرایا تھا۔
۱۹۴۰ کی دہائی کے اوائل میں دیولپور گاؤں کے چھ سے سات کنبوں نے ۱۲۵ سے زیادہ دستکاروں کو کام پر رکھا۔ ان دستکاروں نے مل کر مجموعی طور پر سالانہ ایک لاکھ پولو کی گیندیں تیار کیں۔ رنجیت کہتے ہیں، ’’ہمارے ہنرمند شلپکار (کاریگر) پولو کے مارکیٹ کو جانتے تھے۔‘‘ ان کے دعووں کی تصدیق برطانوی دور حکومت میں ہوڑہ ضلع کی سروے اور سیٹلمیٹ رپورٹ سے بھی ہو جاتی ہے، جس میں کہا گیا ہے: ’’ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں دیولپور وہ واحد جگہ ہے جہاں پولو کی گیندیں بنتی ہیں۔‘‘
رنجیت کی بیوی مینوتی مَل کہتی ہیں، ’’پولو کی گیند سازی کے فروغ پاتے کاروبار کو دیکھ کر ہی میرے والد نے ۱۴ سال کی عمر میں میری شادی یہاں کر دی تھی۔‘‘ اب وہ اپنی عمر کی ساٹھویں دہائی میں ہیں۔ ایک دہائی پہلے تک وہ اس کام میں اپنے شوہر کی مدد کیا کرتی تھیں۔ اس کنبے کا تعلق مغربی بنگال میں درج فہرست ذات کے طور پر درج مَل برادری سے ہے۔ رنجیت نے اپنی تمام عمر دیولپور میں گزاری ہے۔
اپنے گھر کے اندر مدور گھاس کی چٹائی پر بیٹھے، وہ پرانے اخباری تراشوں اور میگزین کے مضامین کے اپنے قیمتی ذخیرے کو الٹ پلٹ رہے ہیں۔ ’’اگر آپ کو اس دنیا میں کہیں بھی لنگی پہنے گیند بناتے کسی شخص کی تصویر نظر آتی ہے، تو وہ تصویر میری ہوگی،‘‘ وہ فخریہ لہجے میں کہتے ہیں۔














