ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے جو باریکی سے بنی کمل کوش چٹائیوں کی قدر کر سکتے ہوں۔
اور ایسے لوگوں کی تعداد اور بھی کم ہے جو انہیں بُن سکتے ہوں۔
مغربی بنگال کے کوچ بہار ضلع میں تیار کی جانے والی ان چٹائیوں پر بنے ثقافتی نقش انہیں دیگر چٹائیوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ یہ انتہائی تفصیلی نقش اسٹارچ شدہ بید کی باریک پٹیوں سے ابھارے جاتے ہیں۔
پربھاتی دھر کہتی ہیں، ’’روایتی کمل کوش کو کولا گاچھ [کیلے کے درخت]، میور [مور]، منگل گھٹ [گھڑا جس پر ناریل رکھا ہوتا ہے]، سواستیک [خوشحالی کی علامت] جیسے نیک شگون والے نقشوں سے مزین کیا جاتا ہے۔‘‘
پربھاتی کمل کوش کے ان معدوے چند دستکاروں میں سے ایک ہیں، جو بید کی ان پٹیوں سے چٹائی بُن سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ کام ۱۰ سال کی چھوٹی عمر میں ہی شروع کر دیا تھا۔ ’’اس گاؤں [گھیگیر گھاٹ] میں ہر شخص چھوٹی عمر سے ہی چٹائیاں بُننا شروع کر دیتا ہے،‘‘ کم عمری میں ذہنی پختگی کے کسی بھی خیال کومسترد کرتے ہوئے ۳۶ سالہ خاتون کہتی ہیں۔ ’’میری والدہ کمل کوش کو صرف ٹکڑوں میں ہی بُن سکتی تھیں، لیکن میرے والد کو ڈیزائن پر اچھی دسترس حاصل تھی اور وہ اچھی طرح سمجھاتے ہوئے کہتے، ’اس ڈیزائن کو اس طرح بُننے کی کوشش کرو‘۔‘‘ اگرچہ وہ خود بُنائی نہیں کر سکتے تھے، لیکن پربھاتی کا خیال ہے کہ انہوں نے والد کی تفصیلی وضاحتوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
ہم گھیگیر گھاٹ میں ان کے گھر کے برآمدے میں بیٹھے ہیں۔ اس خطہ کے زیادہ تر دستکار چھت والے برآمدے ہی میں کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پربھاتی کا پورا کنبہ ان کے ارد گرد موجود ہے، اور اس ہنر سے منسلک مختلف کاموں میں ان کی مدد کر رہا ہے۔ چٹائی کے اندر کی پٹیوں کی لچھوں سے شکلوں کی اصل بنائی اور ان کے ڈیزائن پربھاتی نے تیار کیے ہیں۔ ’’یہ کام ہم اپنی یادداشت کے سہارے کرنے کے عادی ہیں،‘‘ وہ اپنے ڈیزائن بنانے کے عمل کے بارے میں کہتی ہیں۔


























