روپالی پیگو کے گھر کی کھڑکی سے جہاں تک نظر جاتی ہے، صرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے – اس سال سیلاب کا پانی ابھی تک کم نہیں ہوا ہے۔ روپالی، سوون سیری ندی سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر رہتی ہیں، جو برہم پتر کی ایک اہم معاون ندی ہے۔ یہ ندی ہر سال آسام کے ایک بڑے حصہ میں سیلاب کی وجہ بنتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ چاروں طرف پانی ہی پانی ہے، لیکن پینے لائق پانی تلاش کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ آسام کے لکھیم پور ضلع میں واقع ان کے گاؤں بورڈوبی مالووال میں پینے کا پانی آلودہ ہو چکا ہے۔ روپالی بتاتی ہیں، ’’ہمارے گاؤں اور قرب و جوار کے گاؤوں کے زیادہ تر ہینڈ پمپ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔‘‘
وہ سڑک کے پاس لگے ہینڈ پمپ سے پانی بھرنے کے لیے ڈونگی سے جاتی ہیں۔ اسٹیل کے تین بڑے کنٹینر لیے روپالی سڑک کی طرف بڑھتی ہیں، جو جزوی طور پر پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ وہ سیلاب میں ڈوبے گاؤں میں آنے جانے کے لیے بانس کے ایک ڈنڈے کا استعمال کرتی ہیں۔ ’’مونی، چلو!‘‘ وہ اپنی پڑوسن کو بلاتی ہیں، جو اکثر ان کے ساتھ جاتی ہیں۔ دونوں سہیلیاں کنٹینر بھرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔








