صبح کے نو بجے ہیں اور ممبئی کا آزاد میدان نوجوان کرکٹروں کی گہما گہمی سے آباد ہے۔ وہ یہاں کھیلنے کے بہانے اپنا اختتام ہفتہ خوشگوار طریقے سے گزارنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ کھیل کے جوش کے درمیان کبھی کبھی غصے اور خوشی میں ملی ان کے چیخنے اور چہکنے کی آوازیں صاف سنی جا سکتی ہیں۔
ان سے بمشکل ۵۰ میٹر دور خاموشی کے ساتھ ایک دوسرا ’کھیل‘ بھی جاری ہے، جس میں تقریباً ۵۰۰۰ عورتیں شامل ہیں۔ یہ کھیل نسبتاً لمبے عرصے سے کھیلا جا رہا ہے، اور اس میں داؤ بھی اونچے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہوئی ان منظوری یافتہ سماجی صحت کارکنوں، یعنی آشا طبی ملازمین کو اس کھیل کا کوئی اختتام ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ وہ ممبئی کے آزاد میدان میں پچھلے مہینے احتجاج درج کرانے کے لیے اکٹھا ہوئی تھیں۔ گزشتہ ۹ فروری سے شروع ہوئے اس احتجاجی مظاہرہ کے پہلے ہفتے میں ہی ۵۰ سے زیادہ خواتین کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔
مصروف سڑک سے صاف صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ۳۰ سال کے آس پاس کی ایک آشا کارکن میدان میں بیٹھی ہیں۔ اپنے ارد گرد دیکھتی ہوئی وہ تھوڑی گھبرائی ہوئی ہیں اور پاس سے گزرتے لوگوں کی نظروں سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے عورتوں کا ایک گروپ انہیں چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے اور دوپٹوں اور ایک چادر سے انہیں ڈھانپ لیتا ہے۔ پردے کے اندر وہ تیزی سے اپنے کپڑے بدل لیتی ہیں۔
کچھ گھنٹے بعد کھانے کے وقت دوپہر کی تیز دھوپ کے نیچے آشا کارکن اپنی ساتھی ریٹا چاورے کو گھیر کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان سب کے ہاتھوں میں خالی ٹفن باکس، پلیٹ اوریہاں تک کہ بڑے ڈھکن بھی ہیں۔ سبھی تحمل کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ ریٹا (۴۷) انہیں ایک ایک کر کے گھر کا بنا کھانا پیش کر رہی ہیں۔ ’’میں یہاں دھرنے میں ۸۰ سے ۱۰۰ آشا کارکنوں کو روزانہ کھانا کھلاتی ہوں،‘‘ ریٹا کہتی ہیں۔ وہ تھانے ضلع کے تسگاؤں سے آزاد میدان تک پہنچنے کے لیے ہر دن دو گھنٹے کا سفر کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ ۱۷ دیگر آشا کارکن بھی آتی ہیں۔
’’ہم باری باری سے ان کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں اور اس کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ ایک بھی آشا کارکن بھوکی نہ رہیں۔ لیکن اب ہم بھی خود کو تھکا ہوا اور بیمار محسوس کرنے لگے ہیں۔ ہم اب پست ہو چکے ہیں،‘‘ سال ۲۰۲۴ کی فروری کے آخر میں پاری سے بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔



















