گنیش پنڈت نے حال ہی میں تیس کی عمر پار کی ہے، اور وہ شاید نئی دہلی کے پرانے یمنا برج – لوہا پل – کے سب سے نوجوان رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی برادری کے نوجوان تیراکی کوچ جیسی ’مین اسٹریم‘ کی نوکریوں اور قریب میں واقع چاندنی چوک کی خوردہ دکانوں میں کام کرنا زیادہ پسند کر رہے ہیں۔
دہلی سے ہو کر گزرنے والی یمنا، گنگا کی سب سے لمبی معاون ندی ہے اور حجم کے لحاظ سے گھاگھرا کے بعد دوسری سب سے بڑی ندی ہے۔
گنیش پنڈت یمنا پر تصویریں کھنچوانے کا انتظام کرتے ہیں اور پوجا پاٹھ کے لیے آئے لوگوں کو ندی کے بیچوں بیچ لے جاتے ہیں۔ ’’جہاں سائنس فیل ہو جاتی ہے، وہاں عقیدہ کام کرتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ان کے والد یہاں کے پجاری ہیں اور گنیش اور ان کے دونوں بھائیوں نے، ’’نوجوانی کی عمر میں جمنا [یمنا] میں تیرنا سیکھ لیا تھا۔‘‘ ان کے بھائی پانچ ستارہ ہوٹلوں میں لائف گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں۔






