تمل ناڈو کے وَڈنمیلی گاؤں میں شام ڈھل چکی ہے۔ شری پونّی یمّن تیروکوتو منڈرم کے ممبران کاریہ کوتو کی پیشکش کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح یہ شو شام سے صبح تک چلے گا، جس میں بہت سے کردار ہوں گے، جو کئی دفعہ اپنے لباس تبدیل کریں گے۔
اسٹیج کے پیچھے۳۳ سالہ شَرمی نے میک اپ کرنا شروع کر دیا ہے۔ جب وہ اپنی لپ اسٹک بنانے کے لیے تیل میں سرخ پاؤڈر ملاتی ہیں، تو وہ اَریتارَم (میک اپ) کے کچھ بنیادی اصولوں کی بھی وضاحت کرتی جاتی ہیں: ’’مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ اریتارم ہوتے ہیں۔ یہ کردار اور کردار کی طوالت کے لحاظ سے بھی طے ہوتا ہے۔‘‘
شرمی ان چار ٹرانس جینڈر فنکاروں میں سے ایک ہیں جو شری پونّی یمّن تیروکوتو منڈرم ڈرامہ کمپنی کی ۱۷ رکنی ٹیم کا میک اپ کرتی ہیں۔ یہ کمپنی تمل ناڈو کی سب سے قدیم پرفارمنگ آرٹ کی صنف میں سے ایک تصور کی جانے والی صنف کے لیے مخصوص ہے۔ شَرمی کہتی ہیں، ’’میری نسل سے پہلے کے لوگ بھی تیروکوتو کی پیشکش کیا کرتے تھے۔ میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کتنی قدیم ہے۔‘‘
تیروکوتو ایک طرح کا اسٹریٹ تھیٹر ہوتا ہے۔ اس میں رزمیہ نظموں، عام طور پر مہابھارت اور رامائن کی کہانیوں، کی پیشکش ہوتی ہے، اور اسے پوری رات پرفارم کیا جاتا ہے۔ تیروکوتو کا موسم عام طور پر پنگونی (اپریل) اور پورٹّاسّی (ستمبر) کے مہینوں کے درمیان آتا ہے۔ اس عرصے میں شَرمی اور ان کا گروپ تقریباً ہر ہفتے کے دن اپنا ڈرامہ اسٹیج کرتے ہیں۔ اس حساب سے مہینہ میں تقریباً ۱۵ سے ۲۰ پرفارمنس ہو جاتے ہیں۔ انہیں ہر پرفارمنس کے لیے ۷۰۰ سے ۸۰۰ روپے ملتے ہیں، یعنی ان کی آمدنی فی فنکار آمدنی تقریباً ۱۰ ہزار سے ۱۵ ہزار روپے ہوتی ہے۔
تاہم، موسم ختم ہونے کے بعد فنکاروں کو مجبوراً آمدنی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ ان ذرائع میں کاریہ کوتو بھی شامل ہے۔ یہ رسم پر مبنی تیروکوتو کی ایک شکل ہے، جسے کسی کی آخری رسومات کے دوران پرفارم کیا جاتا ہے۔ ’’کسی کی موت پر ہمیں ہفتے میں کاریہ کوتو پرفارم کرنے کے ایک یا دو مواقع مل جاتے ہیں،‘‘ وڈنمیلی میں کاریہ کوتو کی پیشکش کی تیاری کرتے ہوئے شرمی کہتی ہیں۔ وہ ابھی تروولّور ضلع کے پَٹّرئی پیرمبدور میں اپنی ڈرامہ کمپنی کے دفتر سے تقریباً ۶۰ کلومیٹر دور ہیں۔
























