’’کیمرہ تو دھات کا ایک ٹکڑا ہے، جس میں سوراخ ہوتا ہے۔ تصویر آپ کے دل میں اترتی ہے۔ آپ کا ارادہ ہی آپ کے کانٹینٹ یا مواد کا تعین کرتا ہے۔‘‘
پی سائی ناتھ
جھکنا، سنبھلنا، بنانا، زور لگانا، اٹھانا، جھاڑو لگانا، کھانا پکانا، فیملی کی دیکھ بھال کرنا، مویشی چرانا، پڑھنا، لکھنا، بُنائی کرنا، موسیقی تیار کرنا، رقص کرنا، گانا اور جشن منانا…تصویریں الفاظ کے ساتھ مل کر دیہی ہندوستان کے لوگوں کی زندگی اور کام کاج کے بارے میں گہری اور زیادہ واضح سمجھ پیدا کرتی ہیں۔
پاری کی تصویریں مجموعی یادداشتوں کی وژوئل دستاویز تیار کرنے کی کوشش ہے۔ یہ تصویریں ہمارے دور کی صرف دستاویز نہیں ہیں، بلکہ وہ دروازہ ہیں جس سے ہو کر ہم خود سے اور اپنے آس پاس کی دنیا سے جُڑ پاتے ہیں۔ تصویروں کا ہمارا وسیع مجموعہ اُن کہانیوں کو بیان کرتا ہے جنہیں عام دھارے کی میڈیا میں جگہ تک نہیں ملتی ہے – یعنی حاشیہ پر موجود لوگوں، مقامات، زمین، معاش اور محنت کی کہانیاں۔
تصویروں میں درج مسرت، خوبصورتی، خوشی، اداسی، غم، خوف اور خوفناک سچائیاں انسانی زندگی کی تمام کمزوریوں اور لاچاریوں کو بیان کرتی ہے۔ کہانی کا کردار صرف تصویر کھینچنے کا موضوع نہیں ہوتا۔ تصویر میں نظر آ رہے شخص کا نام جاننے سے اس کے تئیں ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اور ایک اکیلی کہانی کئی بڑی سچائیوں کو سمیٹ کر لاتی ہے۔
مگر یہ تبھی ہو سکتا ہے، جب فوٹوگرافر اور فوٹو کے موضوع، یعنی اس انسان کے درمیان باہمی تعاون کا جذبہ ہو۔ بے پناہ نقصان اور ناقابل بیان غم کے شکار لوگوں کی تصویر کھینچنے کے لیے کیا ہم نے ان کی رضامندی حاصل کی ہے؟ بالکل حاشیہ پر زندگی بسر کر رہے لوگوں کے وقار کو ٹھیس پہنچائے بغیر تصویریں کیسے کھینچی جا سکتی ہیں؟ فرد یا لوگوں کی تصویریں کس سیاق و سباق میں کھینچی جا رہی ہیں؟ عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی سے متعلق کہانیاں بیان کرنے کے لیے تصویروں کا مجموعہ تیار کرنے کا مقصد کیا ہے؟
ان اہم سوالوں کا سامنا ہمارے فوٹوگرافر کر رہے ہوتے ہیں، خواہ وہ کچھ دنوں یا کچھ سالوں کی مدت میں کسی اسٹوری کا احاطہ کر رہے ہوں، چاہے مشہور فنکاروں، آدیواسی تہواروں، احتجاجی مظاہروں میں کسانوں وغیرہ کی تصویریں کھینچنی ہوں۔
فوٹوگرافی کے عالمی دن کے موقع پر ہم آپ کے لیے لے کر آئے ہیں تصویروں کا ایک ایسا مجموعہ جسے فوٹوگرافرز نے پاری پر شائع ہونے والی اپنی اسٹوریز کے لیے کھینچی ہیں۔ اپنی تحریروں کے ذریعے وہ ہمیں یہ بھی بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ تصویریں کب اور کن حالات میں کھینچیں اور ان کی نظر میں ان تصویروں کی کیا اہمیت ہے۔ فوٹوگرافرز کے نام انگریزی کے حروف کی ترتیب کے مطابق دیے گئے ہیں:






















