پاری کی شروعات ۲۰ دسمبر ۲۰۱۴ کو باقاعدہ طور پر ہوئی تھی، یعنی اس سفر کے دس سال مکمل ہو چکے ہیں۔
کوئی پوچھے کہ ان سالوں میں ہماری سب سے بڑی حصولیابی کیا ہے؟ ہم ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ بطور آزاد صحافتی ویب سائٹ، ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور ایک ایسے ماحول میں پھل پھول رہے ہیں، جہاں طاقتور کارپوریٹ کمپنیوں کا راج ہے۔ پاری اب روزانہ ۱۵ زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ یہ اُس ٹرسٹ کی سرگرمی ہے جو بغیر کسی رقم کے بنایا گیا تھا، اور حکومت سے ہم نے نہ تو کوئی مالی مدد مانگی، نہ ہی دی۔ ہم نے سیدھے طور پر کوئی کارپوریٹ گرانٹ یا سرمایہ بھی نہیں لیا، نہ ہی اشتہار قبول کیے۔ ہم نے ممبرشپ کے لیے بھی کوئی فیس نہیں رکھی، جو عام لوگوں کی اس بڑی آبادی کو ہم سے دور کر دیتا جنہیں ہم بطور قاری، سامعین اور ناظرین پاری سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ اس ٹرسٹ کا قیام پر عزم رضاکاروں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعہ کیا گیا، جس میں صحافی، تکنیکی ماہرین، فنکار، ماہرین تعلیم اور تمام دیگر لوگ شامل رہے۔ ان رضاکاروں (والنٹیئرز) نے بغیر کسی اعزازیہ کے اپنے ہنر کو پاری کو کھڑا کرنے میں لگا دیا۔ عام لوگ، ٹرسٹ کے ارکان اور کئی انجمنوں کے مالی تعاون نے اسے مضبوطی فراہم کی۔ انہوں نے کبھی پاری پر شکنجہ کسنے کی کوشش نہیں کی۔
ایماندار اور بیحد محنتی ساتھیوں کی ٹیم کے ذریعہ چلائے جانے والے پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی ویب سائٹ اب ہندوستان کے تقریباً ۹۵ قدرتی-طبعی یا تاریخی طور پر وجود میں آنے والے علاقوں سے منظم طریقے سے رپورٹنگ کی کوشش کرتی ہے۔ یہ صحافتی ویب سائٹ مکمل طور پر دیہی ہندوستان، تقریباً ۹۰ کروڑ دیہی باشندوں، ان کی زندگی اور معاش، ان کی ثقافت، ان کی تقریباً ۸۰۰ زبانوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کام کرتی ہے۔ اور، عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی سے متعلق کہانیاں کہنے کے لیے وقف ہے۔ تقریباً ایک ارب انسانوں کی کہانیوں کا ہم احاطہ کرتے ہیں، جس میں مہاجرت کی وجہ سے شہری علاقوں میں آئے دیہی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
شروعات سے ہی، بانیوں کی واضح رائے تھی کہ ہم پاری کو صحافتی ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ ایک زندہ مجموعہ کی شکل بھی دیں۔ ہم ایک ایسی سائٹ بنانا چاہتے تھے جو کارپوریٹ کے ذریعہ متعارف ’پیشہ ور‘ میڈیا کے فرسودہ اصولوں کی بنیاد پر نہ چلے، بلکہ اس میں انسانیت، سائنس اور خاص کر سماجیات کی پختگی، علم اور طاقت کا امتزاج ہو۔ پہلے دن سے، ہم نے صرف تجربہ کار صحافیوں کو ہی نہیں جوڑا، بلکہ دوسرے شعبوں کے جانکاروں کو بھی ساتھ لائے، جو صحافت کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔
یہ نسخہ تمام قسم کے بھرم، جدوجہد، غلط فہمیوں، دلیلوں (کبھی کبھی تو بیحد تلخ دلیل) سے مل کر تیار ہوا تھا؛ اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ ہماری نظر میں یہ ایک غیر معمولی حصولیابی ہے۔ ہر کوئی اس ایک اصول کو سمجھتا ہے اور اتفاق کرتا ہے: ہمارے ذریعہ شائع کردہ اسٹوری میں ہماری آواز حاوی نہیں ہوگی۔ عام ہندوستانیوں کی آواز کو ہی ہم آگے رکھیں گے۔ ہم تمام نامہ نگاروں کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہیں کہ اسٹوری میں لوگوں کی آواز کو مرکزیت حاصل ہو، نہ کہ ان کی اپنی موجودگی اسٹوری پر حاوی ہو۔ ہمارا کام کہانیوں کو درج کرنا ہے، کوئی بلیٹن یا اکیڈمک یا سرکاری رپورٹ شائع کرنا نہیں۔ جہاں تک ممکن ہو پاتا ہے، ہم کسانوں، آدیواسیوں، مزدوروں، بُنکروں، ماہی گیروں اور تمام دیگر معاش سے وابستہ لوگوں کو اپنی کہانی کہنے، اور یہاں تک کہ لکھنے کے لیے بھی آمادہ کرتے ہیں۔ انہیں گانے کے لیے بھی کہتے ہیں۔














