مہاجر مزدور ایک ایسے ’سونے کے پیالہ‘ کا خواب دیکھتے ہیں جو آخر میں ان کے قرض ادا کر دے، ان بچوں کا اسکول جاری رکھنے میں مدد کرے اور بھوک مٹائے۔ لیکن چیزیں اکثر غلط ہو جاتی ہیں۔ آجیویکا کی طرف سے چلائی جانے والی ریاستی مزدور ہیلپ لائن کو ہر مہینہ مہاجر مزدوروں کی ۵۰۰۰ کالیں موصول ہوتی ہیں، جن میں اپنی واجبات کی عدم ادائیگی پر قانونی چارہ جوئی کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے۔
’’دہاڑی مزدوری کے معاہدے کاغذی طور پر نہیں بلکہ زبانی طے ہوتے ہیں۔ مزدوروں کو ایک ٹھیکیدار سے دوسرے کو منتقل کر دیا جاتا ہے،‘‘ کملیش کہتے ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ صرف بانس واڑہ ضلع کے مہاجر مزدوروں کی اجرت کی عدم ادائیگی کئی کروڑ میں پہنچ گئی ہے۔
کملیش مزید کہتے ہیں، ’’انہیں کبھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا اصل ٹھیکیدار کون ہے، وہ کس کے لیے کام کر رہے ہیں، اس لیے واجبات کا ازالہ ایک پریشان کن اور طویل المیعاد عمل بن جاتا ہے۔‘‘ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہے جس سے انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس طرح مہجری مزدوروں کا استحصال کیا جاتا ہے۔
گزشتہ ۲۰ جون ۲۰۲۴ کو ایک ۴۵ سالہ بھیل آدیواسی راجیش دامور اور دو دیگر مزدور مدد کے لیے بانس واڑہ میں ان کے دفتر آئے۔ ریاست میں گرمی اپنے شباب پر تھی، لیکن پریشان مزدوروں کے غصے کی وجہ شدید گرمی نہیں تھی۔ ان کے آجر ٹھیکیدار کے اوپر ان کے کل ۲۲۶۰۰۰ روپے واجب الادا تھے۔ انہوں نے شکایت درج کرانے کے لیے تحصیل کشل گڑھ کے پٹن پولیس تھانے سے رجوع کیا تھا۔ پولیس والوں نے انہیں آجیویکا کے ’شرمک سہایتا ایوم سندربھ کیندر‘ میں بھیج دیا، جو علاقے میں مہاجر مزدوروں کے لیے قانونی چارہ جوئی کا ایک مرکز ہے۔
اپریل میں راجیش اور سکھواڑہ پنچایت کے ۵۵ مزدور ۶۰۰ کلومیٹر دور گجرات کے موربی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ انہیں وہاں کی ایک ٹائلز فیکٹری مزدوری اور راج مستری کا کام کرنے کے لیے اجرت پر رکھا گیا تھا۔ ۱۰ ہنر مند مزدوروں کی اجرت ۷۰۰ روپے یومیہ اور باقی کی ۴۰۰ روپے طے کی گئی تھی۔
ایک مہینہ کام کرنے کے بعد، ’’ہم نے ٹھیکیدار سے اپنے تمام واجب الادا رقم کا مطالبہ کیا، لیکن وہ ادائیگی کی تاریخوں کو آگے بڑھاتا رہا،‘‘ پاری سے فون پر بات کرتے ہوئے راجیش کہتے ہیں۔ ٹھیکدار سے بات چیت میں پیش پیش رہے راجیش کو ان کی زبان دانی سے مدد ملی۔ وہ بھیلی، واگڈی، میواڑی، ہندی اور گجراتی پانچ زبانیں جانتے ہیں۔ ان کی ادائیگی کا معاملہ طے کرنے والے ٹھیکیدار کا تعلق مدھیہ پردیش کے جھابوا سے تھا اور وہ ہندی بولتا تھا۔ اکثر مزدور اصل ٹھیکیدار سے معاملہ طے کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کی وجہ بعض اوقات زبان کی رکاوٹ ہوتی ہے، لیکن اکثر انہیں نیچے کے ذیلی ٹھیکیداروں سے ہی معاملہ طے کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات جب مزدور اپنی بقایا اجرت کا تقاضہ کرتے ہیں تو ٹھیکیدار تشدد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
ان سبھی ۵۶ مزدوروں نے اپنی اجرت کی بڑی رقم کی ادائیگی کے لیے ہفتوں تک انتظار کیا۔ اب گھر سے لایا ہوا راشن ختم ہو رہا تھا اور کمائی کا پیسہ بازار سے خریداری کی وجہ سے ختم ہو رہا تھا۔