میرٹھ کے ایک کیرم بورڈ کارخانہ میں پانچ کاریگر ۴۰ بورڈوں کی کھیپ تیار کرنے کے لیے لگاتار پانچ دنوں سے روزانہ آٹھ گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اس ورکشاپ کا ہر کاریگر جانتا ہے کہ اسٹرائکر اور گوٹیوں (کوائن) کو کیرم بورڈ کے فریم کے درمیان تیزی سے چکر لگوانے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں زیادہ سے زیادہ چار کھلاڑی کھیل سکتے ہیں، لیکن یہاں ہر بورڈ پر پانچ کاریگر کام کر رہے ہیں۔ وہ کیرم کے کھیل کو ممکن بنانے میں مدد کرتے ہیں، لیکن خود کبھی نہیں کھیلے۔
’’میں ۱۹۸۱ سے کیرم بورڈ بنا رہا ہوں، لیکن میں نے کبھی کوئی بورڈ نہیں خریدا اور نہ ہی کیرم کھیلا۔ فرصت کہاں ہے؟‘‘ ۶۲ سالہ مدن پال کہتے ہیں۔ جب ہم بات چیت کر رہے ہیں، تو وہ اور ان کے ساتھی کاریگر بڑی احتیاط سے ۲۴۰۰ ڈنڈوں کو ایک ترتیب سے رکھتے ہیں یا ببول کی لکڑی کے ٹکڑوں کو کاٹتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ٹکڑے کی لمبائی ۳۲ یا ۳۶ انچ ہوتی ہے اور کاریگر انہیں کارخانے کی بیرونی دیوار کے کنارے بچھاتے ہیں۔
’’میں صبح ۸ بج کر ۴۵ منٹ پر یہاں پہنچ جاتا ہوں اور نو بجے تک کام شروع ہو جاتا ہے۔ میرے گھر پہنچتے پہنچتے شام کے سات ساڑھے سات بج جاتے ہیں،‘‘ مدن پال کہتے ہیں۔ اتر پردیش کے میرٹھ شہر کی سورج کنڈ اسپورٹس کالونی میں واقع ’یہ‘ کیرم بورڈ کا ایک چھوٹا سا کارخانہ یا فیکٹری ہے۔
مدن میرٹھ ضلع کے پوٹھا گاؤں کے اپنے گھر سے ہفتے کے چھ دن اپنے کارخانے تک پہنچنے کے لیے سائیکل پر سوار ہوکر نکلتے ہیں اور ۱۶ کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں۔
ایک چھوٹا ہاتھی (منی ٹیمپو ٹرک) پر سوار دو ٹرانسپورٹروں نے میرٹھ شہر کے تاراپوری اور اسلام آباد علاقوں میں واقع آرا مشینوں سے لکڑی کے کٹے ہوئے ٹکڑوں کو ابھی ابھی پہنچایا ہے۔
’’ان ٹکڑوں سے کیرم بورڈ کا بیرونی فریم تیار کیا جائے گا، لیکن اس سے پہلے انہیں چار سے چھ ماہ تک کھلے میں خشک کرنے کے لیے باہر رکھا جائے گا۔ ہوا اور دھوپ میں خشک ہونے کے بعد لکڑی کے ٹکڑے نمی سے پاک ہو جاتے ہیں، انہیں سیدھا رکھنے میں مدد ملتی ہے اور ان میں پھپھوند بھی نہیں لگتی ہے،‘‘ مدن بتاتے ہیں۔



























